.

مصر کی ساحلی تفریح گاہ میں جرمن خواتین پر چاقو سے حملہ، دو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں بحیرہ احمر کے کنارے واقعے ساحلی سیاحتی مقام الغردقہ میں ایک 29 سالہ مصری نوجوان نے چاقو کے پے در پے وار کر کے جرمنی کی چھ خواتین سیاحوں کو شدید زخمی کر دیا جس کے نتیجے میں دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عینی شاہدین اور حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ مصری نوجوان عبدالرحمن شمس شعبان کے نام سے کی گئی ہے جو قاہرہ یونیورسٹی کا فارغ التحصیل اور کفر الشیخ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ بہ ظاہر حملہ آور کا ہدف خصوصي طور پر غیر ملکی افراد تھے۔

مسلح شخص نے تقریحی قصبے الغردقہ کے ایک ہوٹل میں دو جرمن خواتین کو ہلاک کرنے کے بعد دو دوسری عورتوں پر چاقو سے وار کیے۔ اس کے بعد وہ قریبی ساحلی علاقے کی طرف بھاگ کیا اور پکڑے جانے قبل اس نے مزید دو افراد کو زخمی کر دیا۔

مصر کے اسی تفریحی مقام پر ایسے ہی ایک واقعہ کے کئی سال بعد غیر ملکی سیاحوں پر یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔

بحر الاحمر گورنری کے سیکیورٹی ڈائریکٹر محمد الحمزاوی نے میڈیا کو بتایا کہ چاقو حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی خواتین میں جرمن شہری ہیں۔ قبل ازیں مصری سیکیورٹی ذرائع نے مقتول خواتین کی شناخت یوکرائنی شہریوں کے طور پر کی تھی۔

حملہ آور کی گرفتاری کے بعد کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک تصویر میں حملہ آور کو آہنی پنجرے میں بند کیے دکھایا گیا ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصر اپنی سیاحت کی صنعت کی بحالی کی کوششیں کر رہا ہے۔

الپلاسیو ہوٹل کے سیکیورٹی منیجر نے، جہاں یہ حملہ ہوا تھا، خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ حملہ آور کے پاس ایک چاقو تھا۔ اس نے دونوں خواتین سیاحوں کے سینے میں تین بار چاقو گھونپا اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں ۔ پھر وہ دوسرے ساحلی مقام کی جانب بھاگ گیا۔

جرمنی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس کے پاس کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہیں لیکن وہ حملے کا نشانہ بننے والوں میں جرمن باشندوں کی موجودگی کے امکان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملہ آور کا مقصد اور نیت کیا تھی۔

مصر جزیرہ نما سینائی میں داعش کے شورش پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے جہاں جنگجو بالعموم سیکیورٹی فورسز کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔ تاہم ماضی میں عسکریت پسند قاہرہ اور قطبی مسیحوں کی عبادت گاہوں پر حملے کر چکے ہیں۔ تا حال کسی گروپ نے الغردقہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔