.

سعودی معیشت میں وژن 2030ء کے بعد نمایاں بہتر آئی ہے: آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے سعودی عرب کے وژن 2030ء کے تحت اصلاحات کے پروگرام اور اس پر پیش رفت کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ سعودی مملکت کی بے تیل معیشت میں اس سال بڑھوتری کی امید ہے۔

آئی ایم ایف نے سعودی معیشت کے بارے میں اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اصلاحات کی کامیابی کے لیے ان پر مناسب انداز میں عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس نے مزید کہا ہے کہ اس سال سعودی عرب کی بے تیل معیشت کی شرح نمو 1٫7 فی صد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) کی شرح نمو صفر کے قریب رہنے کی توقع ہے کیونکہ تیل سے وابستہ جی ڈی پی میں مزید کمی ہوگی۔

اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ تیل پیدا اور برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس سے باہر تیل پیداکرنے والے ممالک کے درمیان سمجھوتے کی شرائط پر سعودی عرب عمل درآمد پابند ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اس کی آمدن میں بھی کمی واقع ہوگی اور ا س کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح بھی کم رہے گی۔

آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ’’ سعودی حکام نے اپنے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالیاتی استحکام کے لیے ان کی کوششیں بارآور ثابت ہورہی ہیں،کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے اصلاحات پر بھی پیش رفت جاری ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے احتساب اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے فریم ورک وضع کیا ہے‘‘۔

تاہم بیان میں یہ بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر معیشت کو خطرات درپیش ہوسکتے ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں ملازمتوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 12٫3 فی صد ہوچکی ہے۔عالمی ادارے نے مملکت میں روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آیندہ برسوں کے دوران میں سعودی عرب کا مالیاتی خسارہ بھی بتدریج کم ہوجائے گا۔2016ء میں سعودی عرب کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 2ء17تھا جو 2017ء میں کم ہو کر جی ڈی پی کے3ء9کے برابر رہ جائے گا اور 2022ء تک اس کے صرف ایک فی صد ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے اپنے جائزے میں سعودی حکومت کی مالیاتی اصلاحات کی سمت کا خیر مقدم کیا ہے اور اس بات سے اتفاق کیا ہےکہ درمیانی مدت کے لیے بہتر مالیاتی انتظام کی ضرورت ہے۔انھوں نے تیل کے بجائے آمدن کے دوسرے ذرائع کو بڑھانے کے لیے کوششوں کی بھی تعریف کی ہے اور ایک موثر اور فعال ٹیکس نظام کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں تمباکو اور مقوی مشروبات پر ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور 2018ء کے آغاز سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس ( وی اے ٹی) کو متعارف کرانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ نجی شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور کاروباری برادری سے مشاورت کے عمل کو سراہا ہے۔انھوں نے سعودی حکومت کی نج کاری اور سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری سے متعلق منصوبوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔