.

ہیضے کا شکار یمنی عوام کے لیے ایران کی زاید المعیاد خوراک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران جہاں ایک طرف یمن میں حوثی باغیوں کو ہرطرح کا اسلحہ اور جنگی سازو سامان فراہم کررہا ہے، وہیں جنگ اور ہیضے کی وباء کی شکار یمنی عوام کے لیے امداد کی آڑ میں زاید المیعاد خوراک پہنچانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی یمن کی الحدیدہ گورنری میں محکمہ صحت کے حکام نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی زاید المیعاد اشیائے خوردو نوش کے آٹھ کنٹینر تلف کیے ہیں۔ تلف کی گئی خوراک کئی سال سے زاید المیعاد ہوچکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے یمنی شہریوں کے لیے یہ خوراک بین الااقوامی فوڈ پرگرام کے تحت ایرانی ہلال احمر نے لائی مگر وہ سنہ 1998ء سے زاید المیعاد ہوچکی تھی۔

الحدیدہ شہر کے ایک مقامی صحافی بسیم الجنانی نے بتایا کہ ایرانی ہلال احمر کی طرف سے فراہم کی گئی خوراک کے آٹھ بنڈل زاید المیعاد ہونے کی بناء پر تلف کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سے بھیجی گئی نام نہاد خوراک پراس کی ’ایکسپائری تاریخ‘ واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ بہ ظاہر لگتا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے دانستہ طورپر مضرصحت خوراک یمنی بھیجی گئی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کےعالمی ادارہ خوراک کا موقف معلوم کرنے کے لیے ادارے کےحکام سے رابطے کی کوشش کی تھی مگر کوئی جواب نہیں مل سکا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا عالمی فوڈ پروگرام نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی مضر صحت خوراک کیوں قبول کی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ موجود ہے کہ ایران خوراک کی آڑ میں یمنی باغیوں تک اسلحہ پہنچانے کی کوششیں کررہا ہے۔ ایران کی جانب سے یمن کے شہریوں کے لیے یہ امدادی سامان ایک ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے جب ملک ہیضے کی بدترین وباء کا سامنا کررہا ہے۔ ہیضے کی وباء سے سیکڑوں شہری جاں بحق اور لاکھوں کی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔