یمن میں کینسر کے 4700 مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

حوثی باغی کینسر کے بڑھتے خطرات کے ذمہ دار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے آئینی حکومت کے خلاف جاری بغاوت کی تحریک نے جہاں دیگر نظام زندگی تباہی سے دوچار کیا ہے وہیں کینسر جیسے موذی مرض کا شکار پانچ ہزار کے قریب مریضوں کی زندگیوں کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی یمن کے الحدیدہ شہر میں قائم انقلابی اسپتال کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ شہر میں کینسر کے ورم کا اکلوتا اسپتال ادویہ کی عدم دستیابی کے باعث بند ہونے جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دو سال سے یمنی باغیوں کی طرف سے اسپتال کا بجٹ روکا گیا ہے جس کے باعث اسپتال کینسر جیسے خطرناک اور جان لیوا مرض کے علاج کے لیے دوائی کے حصول میں ناکام ہے۔

اسپتال کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سال سے اسپتال کی انتظامیہ مخیر حضرات کے تعاون سے کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رکھنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔ اب باغیوں کی طرف سے کہہ دیا گیا ہے کہ اسپتال کو کسی قسم کی کینسر کے علاج کی ادویہ فراہم نہیں کی جائیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انقلابی اسپتال نہ صرف الحدیدہ بلکہ ذمار، حجہ اور محویت جیسی گورنریوں کے کینسر کے مریضوں کا واحد مرکز ہے۔ ادویہ کی عدم دستیابی کے باعث یہ کسی بھی وقت بند ہوسکتا ہے اور اس اسپتال میں زیرعلاج کینسر کے 4700 مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

اسپتال نے سعودی عرب کی قیادت میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب اتحاد سے بھی مدد کی اپیل اور کینسر کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہےکہ یمنی باغی الحدیدہ بندرگاہ سے کروڑوں ڈالر کی رقوم جمع کرنے کے باوجود کینسر اسپتال کو بنیادی طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی روکے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں