سعودی عرب میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کی کہانی
برما کے مغربی صوبے اراکان میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کی اقلیت کو کئی روز سے الم ناک صورت حال کا سامنا ہے۔ اس امر نے ان روہنگیا مسلمانوں پر بھی روشنی ڈالی ہے جنہوں نے چند برس قبل مکہ مکرمہ کا رخ کیا تھا۔
کئی برس سے روہنگیا مسلمان برما جو اب "میانمار" ہو چکا ہے ، اس کے مغربی صوبے اراکان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ پہنچے۔ دو برس جاری رہنے والے اس سفر کا مقصد ان کے ملک میں حکومت کی جانب سے ظلم و زیادتی اور نسل کشی کی کارروائیوں سے فرار حاصل کرنا تھا۔ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا میں ظلم کا سب سے زیادہ شکار ہونے والی اقوام میں سے قرار دیا۔
اس سلسلے میں روہنگیا میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر صلاح عبدالشکور نے واضح کیا کہ روہنگیا ایک مسلمان اقلیت ہے جس کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔ یہ لوگ برما یا میانمار کے مغربی حصے میں بستے ہیں۔ ریاست نے ان کو شہریت سے محروم کر دیا ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی ہر قسم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا گیا۔ تقریبا 70 برس سے زیادہ عرصے سے جاری ان کارروائیوں میں قتل ، تشدد ، عصمت دری اور نشل کشی شامل ہے۔ اس تمام جبر و ستم کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ مسلمان ہیں لہذا ملک میں ناپسندیدہ عناصر ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ میانمار سے کوچ کر جائیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صلاح عبدالشکور نے بتایا کہ حکومتی ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر بعض روہنگیا مسلمانوں نے سعودی عرب ہجرت کی اور مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ سعودی فرماں روا شاہ فیصل مرحوم نے ان لوگوں کو "عبادت کے لیے قیام" کے ویزے جاری کیے۔ صلاح کے مطابق برمی کمیونٹی کو سعودی عرب میں ہر قسم کی دیکھ بھال ، سرپرستی اور ہمدردی ملی جو انہوں نے اپنے وطن میانمار میں کبھی دیکھی نہ تھی۔
صلاح نے بتایا کہ چار سال قبل مملکت میں برمی کمیونٹی کے حالات کی درستی کے لیے سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس دوران انہیں بنا فیس کے چار سالوں کی مدت کے اقامے جاری کیے گئے جن کے تحت ان کو تعلیم ، علاج اور نوکریوں کے مواقع میسر آئے۔ صلاح کے مطابق مکہ مکرمہ کی انتظامیہ نے جس منصوبے پر عمل درامد کی ذمے داری سنبھالی اسے پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی تصدیق کی بنیاد پر انسانی تہذیب کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا گیا۔ اس کے تحت 2.5 لاکھ سے زیادہ برمی مسلمانوں کو استحکام بخشا گیا۔
صلاح عبدالشکور نے باور کرایا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ مملکت نے انہیں استحکام بخشا اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے۔ یہ بات مسلم ہے کہ سعودی عرب میں مقیم کمیونٹی کے سوا برما سے کوچ کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی کوئی بھی کمیونٹی باقاعدہ طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔ مملکت میں مقیم کمیونٹی سے ہی ایسے تعلیم یافتہ اور دانش ور افراد سامنے آئے جنہوں نے اراکان صوبے میں اپنے معاملے کی ذرائع ابلاغ ، قانون اور انسانی حقوق کے ذریعے نمائندگی کی۔
-
روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، عالمی برادری میانمر پر دباؤ ڈالے: پاکستان
پاکستان نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی ...
پاكستان -
میانمر: سوا لاکھ روہنگیا مسلمان بے گھر، آنگ سان پر عالمی دباؤ میں اضافہ
میانمر کی لیڈر اور وزیر خارجہ آنگ سان سوچی (سو کائی) پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ...
بين الاقوامى -
بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپ بے گھر روہنگیا مسلمانوں سے بھر گئے
میانمر فوج کی فائرنگ اور بم دھماکوں میں سات روز میں 400 روہنگیا مسلمانوں کی ...
بين الاقوامى