.

ٹرمپ کا ایران اور اس کی ملیشیاؤں کے خلاف سخت حکمت عملی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جامع حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت عراق اور شام میں ایران نواز قوتوں اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف سخت امریکی جواب کو یقینی بنایا جائے گا۔ سابق اور موجودہ امریکی ذمے داران کے مطابق اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تا کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور شدت پسندوں کے لیے سپورٹ روکی جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں ایک بڑے اہل کار نے بتایا کہ یہ حکمت عملی ایران کی تمام ضرر رساں سرگرمیوں کے واسطے ہے۔ ان سرگرمیوں میں مالی امور، دہشت گردی کی سپورٹ اور خطے کو غیر مستحکم کرنا شامل ہے۔ اہل کار کے مطابق مذکورہ امور کے علاوہ الیکٹرونک جاسوسی اور دیگر سرگرمیوں کو ہدف بنانا بھی تجویز میں شامل ہے۔

ادھر ایک دوسرے امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ مذکورہ حکمت عملی میں ایرانی اسلحے کی اُن کھیپوں کے لیے امریکی نگرانی کی کارروائیاں بڑھانا شامل ہے جو یمن میں حوثی ملیشیا، غزہ میں فلسطینی جماعتوں اور مصر میں جزیرہ نما سیناء بھیجی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کو امریکی وزیر دفاع، وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر سینئر ذمے داران نے تیار کیا ہے اور اسے جمعے کے روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں صدر ٹرمپ کو پیش کیا گیا۔