.

ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ تیل کی تجارت پر تاحکم ثانی پابندی عاید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عراقی کردستان سے تیل کی مصنوعات کی درآمد اور برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کردستان میں گذشتہ سوموار کو آزادی کے نام پر متنازع ریفرینڈم کے انعقاد کے ردعمل میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کی وزارت نے تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور ڈرائیوروں کو تاحکم ثانی ایران اور عراقی کردستان کے درمیان ایندھن کی مصنوعات کی حمل ونقل بند کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے جس کسی نے بھی اس کی خلاف ورزی کی ،اس کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

عراقی کردستان میں منعقدہ ریفرینڈم میں قریباً 93 فی صد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس ریفرینڈم کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور اس کے نتائج کو بغداد حکومت اور عراق کے پڑوسی ممالک ترکی اور ایران تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ کردستان کے خلاف سخت اقدامات کی بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے بھی ہفتے کے روز ٹرانسپورٹ کی وزارت کا یہ حکم شائع کیا ہے۔یہ بدھ کو جاری کیا گیا تھا اور اس کو مختلف اداروں اور ٹرانسپورٹ کی ایسوسی ایشنوں کو بھیجا گیا تھا۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے:’’ حالیہ علاقائی پیش رفت اور وزارت داخلہ کے محکمہ برائے سرحدی امور کے حکم کے بعد بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور ڈرائیور حضرا ت تاحکم ثانی عراق کے علاقے کردستان میں ایندھن کی مصنوعات کو لے جانے اور وہاں سے لانے سے گریز کریں‘‘۔

ایران عراقی کردستان کو گیس آئیل برآمد کرتا ہے۔ ایران کی نیشنل آئیل کمپنی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال اس نے کردستان کو گیارہ کروڑ لیٹر گیس آئیل برآمد کیا تھا۔