امریکی عدالت ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن گئی
آٹھ ملکوں کے شہریوں کی امریکا آمد روکنے کی کوشش عدالت نے کالعدم قرار دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آٹھ ممالک کے شہریوں کی ملک میں آمد پر پابندی لگانے کی تازہ ترین کوشش کو ایک بار پھر عدالتی شکست ہو گئی ہے۔ ایک وفاقی عدالت نے پابندی کے اس ہفتے لاگو ہونے سے قبل ہی اسے معطل کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عدالت کا حالیہ حکم امریکہ کو غیر محفوظ بنا رہا ہے۔
اس پالیسی میں ایران، شام، لیبیا، یمن، صومالیہ، چاڈ اور شمالی کوریا کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں وینزویلا کے چند اہلکاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس قبل ٹرمپ انتظامیہ نے جو پابندی لگانے کی کوشش کی تھی اس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک کو شامل کیا گیا تھا تاہم اس سے ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے روک دیا تھا۔
ریاست ہوائی نے صدر ٹرمپ کی پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس پابندی نے بدھ کے روز لاگو ہونا تھا۔ ریاست نے عدالت میں یہ موقف سامنے رکھا کہ وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت صدر کے پاس اس نوعیت کی پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
پابندی کے خلاف یہ حکم نامہ جج ڈیرک واٹسن نے دیا ہے۔ یہ وہی جج ہیں جنھوں نے صدر ٹرمپ کی گذشتہ پابندی کو معطل کیا تھا۔
انھوں نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ موجود پابندی میں بھی وہی خامیاں ہیں جو کہ پچھلی پابندی میں تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پابندی میں ہی واضح نہیں کیا گیا کہ چھ ممالک سے 15 کروڑ لوگوں کی آمد کی اجازی امریکی مفادات کے منافی کیسے ہوگی۔ جج واٹسن کا مزید کہنا تھا کہ نئی پابندی میں عدالت کے گذشتہ احکامات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔
-
ایران سے جوہری معاہدے سے متعلق فیصلہ کر لیا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کا ایران اور اس کی ملیشیاؤں کے خلاف سخت حکمت عملی پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جامع حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت عراق اور شام ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ بیان کا ردعمل، امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ملتوی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق نئی حکمت عملی اور پاکستان کے کردار کے ...
پاكستان