آرامکو کے حصص کی فروخت کے لیے تیاریاں درست ٹریک پر ہیں: سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ قومی تیل کمپنی سعودی آرامکو کے آیندہ سال پانچ فی صد حصص کی پہلی مرتبہ فروخت کے لیے تمام تیاریاں درست ٹریک پر ہیں۔

انھوں نے یہ بات برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔آرامکو کے پانچ فی صد حصص سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت فروخت کیے جارہے ہیں۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اندرون ملک کے علاوہ نیویارک ، لندن ، ٹوکیو ، ہانگ کانگ ایسی بین الاقوامی اسٹاک ایکس چینجز نےآرامکو کی جزوی لسٹنگ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

البتہ کون سی اسٹاک ایکس چینج آرامکو کے حصص فروخت کے لیے پیش کرے گی،اس کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔اس وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آرامکو کے حصص کی فروخت کو 2018ء میں مزید کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے یا پھر سرے سے اس معاملے ہی کو یکسر ملتوی کیا جاسکتا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے رائیٹرز سے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ’’ ہم 2018ء میں حصص کی فروخت کے لیے بالکل ٹریک پر ہیں۔البتہ ابھی لسٹنگ کی تفصیل پر بات چیت جاری ہے‘‘۔

سرمایہ کار ایک عرصے سے آرامکو کی مالیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں لیکن شہزادہ محمد نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’’آرامکو کی کل قدر کا تخمینہ دو کھرب ڈالرز ہے۔ جب اتنی بڑی کمپنی کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے جارہے ہیں تو پھر قیاس آرائیاں تو ہوں گی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ آرامکو حصص کی فروخت کے دن خود ہی اپنا آپ ثابت کردے گی ۔ جب میں اس کی قدر کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ دو کھرب ڈالرز کی بات ہوتی ہے لیکن یہ دو کھرب ڈالرز سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے‘‘۔

ماہرین کے مطابق آرامکو کے حصص کی فروخت کے وقت کا اس اسٹاک مارکیٹ کے قواعد وضوابط اور دائرہ کار پر بھی انحصار ہوگا،جہاں یہ اپنے اندراج کا انتخاب کرے گی۔اس کے حصص کی قیمت پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 60 ڈالرز فی بیرل سے کم ہے اور سعودی حکام اس کو بہتر قرار دے رہے ہیں۔اس وقت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور غیر اوپیک ممالک تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ایک سمجھوتے پر عمل پیرا ہیں۔

جب شہزادہ محمد سے سوال کیا گیا کہ کیا مارچ 2018ء میں اس سمجھوتے کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع کی جائے گی؟ تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’ ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک ،اوپیک اور غیر اوپیک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم نے ایک تاریخی سمجھوتا طے کیا تھا اور ہم تیل کی طلب اور رسد میں توازن اور استحکام قائم کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کی حمایت کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں