.

جنسی کھلونے خرید کا حکم دینے پر برطانوی وزیر سے تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی کابینہ میں شامل ایک سینیر وزیر کی جانب سے اپنی خاتون سیکرٹری کو دو جنسی کھلونے خریدنے کا حکم دینے پر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم تھریسا مے نے اس واقعے کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر کی جانب سے جنسی کھلونے خرید کرنے کا حکم دینے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنےآیا جب وزیراعظم تھریسا مے سیاست میں جنسی تشدد کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے ایک مہم چلا رہی ہیں۔

اخبار ’دا میل‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے عالمی تجارت مارک گیرنیے پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی خاتون سیکرٹری کیرولائن اڈمونسن کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے لیے دو جنسی کھلونے خرید کریں۔ یوں انہوں نے الفاظ میں خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ اپنی سیکرٹری کے بارے میں جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے وہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ ایک ٹی وی پروگرام میں ہونے والی گفتگو کا حصہ تھے۔ تاہم جنسی کھلونے خریدنے والی بات میں نے مزاح کے طور پر کی تھی۔

تاہم اڈمونڈسن نے اخبار سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت کے بیان کو مسترد کردیا ہے، بالخصوص گیرنیے کے بیان کو ان کی طرف سے مذاح قرار دینے کی مخالفت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم تھریسا مے کی ترجمان نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنسی نوعیت کا کوئی بھی رویہ قابل قبول نہیں، ایسا کرنا قطعا نامناسب اور ناپسندیدہ ہے۔ اگر ایسی کوئی حرکت کوئی وزیر کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے‘۔

ایک دوسرے اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کا کلچر ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل جاری ہے۔
برطانوی وزیرصحت گیرمی ہانٹ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم مے نے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی پوری چھان بین کریں کہ آیا گیرنیے وزارت کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں یا نہیں۔

’بی بی سی‘ ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ہانٹ نے کہا کہ اگر گیرنیے پر عاید الزام درست ہے تو بالیقین یہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس نے اس واقعے کی انکوائری کاحکم دے دیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیر نے اپنے منصب کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔