خاتون کو تھپڑ مارنے والے رکن پارلیمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصرمیں ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے بیٹی کی خاطر جامعہ الفیوم کی ایک خاتون سیکیورٹی اہلکار کو تھپڑ مارنے کے واقعے پر عوام الناس میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مصری وزیر تعلیم نے رکن پارلیمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنے اور معاملہ اسپیکر کے سامنے اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد عبدالغفار نے ایک بیان میں کہا کہ ایک رکن پارلیمان کو کسی خاتون پر تشدد زیب نہیں دیتا۔ اگر انہوں نے خاتون اہلکار کے منہ پر تھپڑ مارا ہے تو یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس معاملے کی پوری انکوائری ہونی چاہیے اور اسپیکر کو رکن پارلیمان کا احتساب کرنا چاہیے۔

جامعہ الفیوم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد حمزہ نے واقعے کی مکمل رپورٹ وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد عبدالغفار کے سامنے پیش کردی ہے۔

انہوں نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ رکن پارلیمنٹ منجود الھواری کی بیٹی ایک دوسری نامعلوم لڑکی کے ہمراہ جامعہ میں داخل ہونا چاہتی تھی مگر ان کے پاس ضروری شناختی دستاویزات نہیں تھیں جس پر سیکیورٹی عملے نے انہیں روکا۔ اس پر دونوں طالبات اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تو تکار شروع ہوگئی۔ لڑکی نے اپنے والد کو مدد کے لیے طلب کرلیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے رکن پارلیمنٹ منجود الھواری تیزی کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران ایک طالب علم ان کی گاڑی سے تلے آنے سے بال بال بچا۔ اس موقع پر کئی دوسرے طلباء بھی جمع ہو گئے۔ الھواری نے خاتون سپر وائزر کو تھپڑ مارا تو طلباء مشتعل ہوگئے اور انہوں نے رکن پارلیمنٹ کی گاڑی پر حملہ کردیا۔

خیال رہے کہ مصر میں ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے جامعہ الفیوم کی ایک خاتون سیکیورٹی اہلکار کو تھپڑ مارنے کے واقعے نے عوام الناس میں شدید غم وغصہ پیدا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے رکن پارلیمنٹ منجود الھواری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاتون سے بر سر عام معافی مانگیں اور ایک خاتون افسرکی توہین کرنے پر قانون کا سامنا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں