.

حقیقت چھپ نہیں سکتی: سعودی عرب کی حالیہ صورتحال کے در پردہ حقائق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے متعلق ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا ایک طوفان بپا ہے، تاہم ایسی بے سر وپا خبروں سے سچائی اور حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

ایسی بہت سے جعلی خبروں کا منبع قطری یا لبنانی میڈیا ذرائع ہیں جبکہ باقی ماندہ کا تعلق غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے ہے کہ جو ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے نامعلوم ذرائع کا سہارا لے کر ایسی بے بنیاد اور من گھرٹ خبریں پھیلا رہے ہیں۔

میڈیا میں اس وقت نو [9] ایسی جعلی خبریں بہت زیادہ گردش میں ہیں۔ تاہم 'العربیہ' کی طرف سے جمع کردہ حقائق تصویر کا دوسرا رخ پیش کر رہے ہیں:

1) مستعفی لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کی سعودی عرب میں نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سعد حریری پر کسی قسم کی پابندی نہیں۔ اس امر کا اظہار فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے یورپ ون نامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

قبل ازیں شاہ سلمان نے سعد حریری سے ملاقات کی تھی جبکہ بعد میں سعد مغربی سفارتکاروں سے بھی ملتے رہے ہیں۔ وہ شیخ محمد بن زاید آل نھیان سے ملاقات کے لئے ابوظہبی کا سفر بھی اختیار کر چکے ہیں۔

2) سعد حریری کو سعودی عرب لیجانے والا جہاز ان کے بغیر بیروت واپس آ گیا ہے۔

ایسا کوئی جہاز قطعی طور پر ریاض لینڈ نہیں کیا بلکہ وہ فرانس سے براہ راست بیروت واپس لوٹا تھا۔

3) حریری کا پرائیویٹ جہاز ریاض لینڈ کرنے کے بعد محافظوں نے ان کے موبائل فون ضبط کر لئے تھے۔

سعد حریری کی ریاض آمد معمول کی کمرشل فلائٹ کے ذریعے ہوئی۔

4) کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائی میں 2000 افراد کے بینک کھاتے منجمد کئے گئے۔

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق چند سو افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔

5) بدعنوانی کے خلاف جاری آپریشن میں 500 افراد زیر حراست ہیں۔

اٹارنی جنرل کے بروز جمعرات سامنے آنے والے بیان میں گرفتار افراد کی تعداد 208 بتائی گئی ہے جبکہ تفتیش کے بعد ان میں سات کو بے گناہ قرار دے کر رہا بھی کر دیا گیا ہے۔

6) کرپشن سے متعلق جس رقم سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہے، اس کی مالیت کا اندازہ دو ٹریلین ڈالر بتایا جا رہا ہے۔
اٹارنی جنرل کے بقول گذشتہ دس برسوں کے دوران ایک کھرب ڈالر کے مساوی رقم خرد برد کی گئی۔

7) سیکڑوں نجی کمپنیاں ضبط اور ان کے ملازمین برطرف کئے جا چکے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق کرپشن کے الزام میں ماخوذ افراد کی ملکیتی کمپنیاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ ایسی کمپنیوں کے مالکان کے صرف ذاتی بینک کھاتے معطل کئے گئے ہیں۔

8) سعودی سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ہے۔

اس کے برعکس، انسداد بدعنوانی مہم کے دوران سٹاک مارکیٹ میں مثبت اور بڑھوتری کا رجحان دیکھنے کو ملا ہے جس سے شفافیت جیسی اقدار کو فروغ ملا ہے۔

9) جو کچھ سعودی عرب میں ہو رہا ہے، اس کا تعلق اقتدار کی رسہ کشی سے ہے۔

مملکت میں مکمل اتفاق رائے ہے۔ موجودہ اسٹبلشمنٹ اور اقتدار کے ڈھانچے کو کسی قسم کا کوئی چیلنچ درپیش نہیں ہے۔