’یو این‘ کی متوقع پابندیوں کی زد میں آنے والے لیبی انسانی اسمگلر
سلامتی کونسل کے کل منگل کے روز اجلاس میں لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کے غیرانسانی اور غیر قانونی دھندے میں ملوث افراد اور ملیشیاؤں پر پابندیاں عاید کرنے پر غور کیا گیا۔
ان افراد اور ملیشیاؤں پر الزام ہے کہ وہ لیبیا میں موجود افریقی مہاجرین کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیں مختلف جرائم پیشہ مافیاؤں کے ہاتھ فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کا وسیع وعریض علاقہ افریقی مہاجرین کی اسمگلنگ کے لیے منتقلی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ کئی اسمگلر گروپ لیبیا میں مختلف راستوں سے لوگوں کو اسمگل کرتے اور مکروہ دھندہ چلاتے ہیں۔ لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کے روٹ کا آغاز جنوبی سرحد سے متصل نیجر اور چاڈ کے قریبی علاقوں سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد افریقی مہاجرین کو لیبیا کے سبھا شہر میں لایا جاتا ہے۔ وہاں سے مختلف مراحل میں انہیں سرت اور جفرہ، وہاں سے ساحلی شہر مصراتۃ، زوارۃ، طرابلس اور صبراتۃ پہنچایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں آنے والے گروہ مندرجہ ذیل ہیں۔
البتو قبائل انسانی اسمگلنگ کے بیشتر راستوں پر قابض ہیں۔ نیجیر کے اغادیز شہر سے جنوبی لیبیا تک جتنے بھی انسانی اسمگلنگ کے ممکنہ راستے ہوسکتے ہیں ان پر التبو قبائل کا کسی نا کسی شکل میں کنٹرول قائم ہے۔ یہ قبایل شمالی نیجر سے چاڈ اور جنوبی لیبیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔
سبھا شہر فزان صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس شہر کو مہاجرین کو جمع کرنے کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی لیبیا سے مغربی لیبیا تک ساحلی سرحد اور وہاں سے یورپ کو ملانے والے سمندری راستوں پر قبائل آل سلیمان کا کنٹرول ہے۔ قبائل سلیمان کے قائم کردہ مسلح گروپ صحرائے لیبیا سے ھراوہ، بحر متوسط، اور مغربی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں اور انسانی اسمگلنگ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
مغربی لیبیا میں احمد الدباشی ملیشیا کو بھی انسانی اسمگلنگ کا اہم گروپ سمجھا جاتا ہے۔ یہ لیبیا میں انسانی اسمگلنگ اور اس طرح کے دیگر غیرقانونی دھندوں کا سب سے بڑا مافیا ہے۔ اس کے عسکریت پسندوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے۔ اٹلی کے قریب سرحدی علاقہ صبراتۃ اس ملیشیا کا مرکز ہے۔ مصیف الوفاق‘، بحر تلیل، شہرازد جیسے علاقوں سے یہ گروپ کشتیوں کے ذریعے مہاجرین اور عرب افریقی مہاجرین کو اسمگل کرتے ہیں۔
لیبیا میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث مصعب ابو قرین ملیشیا کے مراکز دحمان اور جھۃ الوادی میں قائم ہیں۔ صبراتہ شہر کے قریب واقع ان مراکز میں افریقی مہاجرین کو جمع کیا جاتا ہے اور وہاں سے اگلے سفر پر روانہ کیا جاتا ہے۔ مصعب ابو قرین ملیشیا احمد الدباشی ملیشیا کا حریف گروپ ہے۔ اس کے ساتھ اس مکروہ دہندے میں ملوث اہم افراد میں احمد قرببو بھی شامل ہے جو مہاجرین کی اسمگلنگ کے لیے کشتیاں فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔
یہ ایک چھوٹا گروپ ہے جس کا مرکز سیاحتی علاقے مصیف تلیل میں قائم ہے۔ اس گروپ کا کام صرف افریقی مہاجرین کو جمع کرنا ہے۔ یہ دوسرے گروپوں کےہاتھ ان مہاجرین کو فروخت کرتا ہے۔
ابراہیم الخنیش ملیشیا کے کارندے ساحلی علاقے الزاویہ تک پھیلا ہوا ہے اور اسمگلنگ کے اہم راستوں پر قابض ہے۔ یہ گروپ الزاویہ شہر کی آئل ریفائرنری سے تیل کی اسمگلنگ کی بھی نگرانی کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی متوقع پابندیوں کی زد میں آنے والے انسانی اسمگلروں میں لیبیا کے ابو عبیدہ الزاوی گروپ بھی شامل ہے۔ ابو عبیدہ الزاوی مگربی لیبیا میں القاعدہ کے قریب ایک مسلح گروپ کا امیر ہے۔
مصری فوج نے اسے2013ء میں طرابلس میں سات مصری سفارت کاروں کےاغواء کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں سفارت کاروں کی بازیابی پر ابو عبیدہ کو رہا کر دیا گیا۔
رواں سال جون میں عمرہ کی ادائی کے لیے سعودی عرب آنے والے اس گروپ کے دو عناصر محمود بن رجب اور محمد حسین الخذروائی کو دہشت گردی کے الزام میں ملوث ہونے پر سعودی عرب میں گرفتار کرلیا گیا۔
-
لیبیا میں انسانی اسمگلنگ ، سلامتی کونسل کا انفرادی پابندیاں لگانے پر غور
فرانس نے پیر کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ لیبیا میں ...
مشرق وسطی -
لیبیا میں انسانی تجارت کا دھندہ ’قانونی‘ طریقوں سے ہو رہا ہے: ذرائع
نوکری کے بہانےلائے گئے افراد کو اسمگلروں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے
بين الاقوامى -
لیبیا : اجتماعی عصمت ریزی کے ایک اور واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی
لیبیا میں سابق مطلق العنان حکمراں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ...
بين الاقوامى