یمنی باغیوں میں دوبارہ لڑائی شروع ، زور دار دھماکے
فریقین کا ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حکومت مخالف حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کے درمیان ایک روز کے وقفے کے بعد علی الصباح دوبارہ لڑائی شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق باغیوں کے زیر تسلط دارالحکومت صنعاء میں حکومت کا تختہ الٹنے میں ایک دوسرے کے حلیف باغیوں میں ایک پھر جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ دونوں طرف سے ایک دسرے پر بھاری اسلحے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعاء میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
مقامی شہریوں نے بتایا کہ رات گئے دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ حوثیوں اور علی صالح کے مقرب ذرائع ابلاغ نے ایک دوسرے پر جمعہ کے روز جنگ بند توڑنے کا الزام عاید کیا۔
اطلاعات کے مطابق باغیوں کے درمیان صنعاء میں لڑائی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ جھڑپیں نقم، سعوان کالونیوِ السیاسی کالونی، شاہراہ بغداد اور شاہراہ صخر پر ہو رہی ہیں۔
علی صالح کی ترجمان ویب سائیٹ کی جانب سے شائع کردہ ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ صنعاء میں بریگیڈئر طارق سالح کے گھر پر حوثیوں کے دھاوے کے بعد السیاسی کالونی اور اس کے اطراف میں حالات سخت کشیدہ ہیں۔
علی صالح کی جماعت پیپلز کانگریس کی ترجمان ویب سائٹ نے وزارت داخلہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثیوں کے ایک وفادار مسلح گروپ نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے علی صالح کے بھتیجے بریگیڈئر طارق صالح اور ان کے بھائی محمد کے گھروں پر اس وقت یلغار کی جب فریقین کی طرف سے معاملات کو سلجھانے کے لیے قائم کردہ کمیٹی مفاہمتی بات چیت کر رہی تھی۔
ویب سائٹ کے مطابق حوثیوں نے شہریوں کے گھروں اور گاڑیوں پر راکٹ سے فائر جانے والے گرینیڈ داغے۔ دوسری طرف حوثی ملیشیا نے علی صالح اور اس کے وفاداروں پر فائربندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔