صنعاء میں عوامی مزاحمت سے یمن کو حوثی ملیشیا سے پاک کرنے میں مدد ملے گی: سعودی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ صنعاء میں یمنی عوام کی ایران کے حمایت یافتہ حوثی فرقہ پرست باغیوں کے خلاف حالیہ مزاحمت اور بیداری سے یمن کو ہلاکتوں ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سرکاری اور نجی املاک کے ناجائز استعمال کے سلسلے سے نجات ملے گی۔

سعودی عرب کی وزارتی کونسل کا منگل کے روز دارالحکومت الریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس ہوا ۔اجلاس میں یمن کی صورت حال ، خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور مختلف اہم ملکی اور علاقائی امور کا جائزہ لیا گیا۔ خادم الحرمین الشریفین نے وزراء کو گذشتہ ہفتے برطانوی وزیراعظم تھریزا مے سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا۔

سعودی عرب کے وزیر ثقافت اور اطلاعات ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابینہ نے خطے اور دنیا میں ہونے والی تازہ پیش رفت سے متعلق متعدد رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔

وزراء نے لندن میں حال ہی میں یمن بحران پر غور کے لیے منعقدہ بین الاقوامی اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔اس بیان میں سعودی عرب کے اپنی سلامتی اور استحکام کو لاحق کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حوثیوں کا سعودی عرب کی جانب بیلسٹک میزائل سے حملہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرے کا موجب ہے۔

وزارتی کونسل نے یمنی دارالحکومت صنعاء میں رونما ہونے والی تازہ پیش رفت کا خصوصی طور پر جائزہ لیا ہے۔وزیر اطلاعات کے بیان کے مطابق ’’ سعودی عرب یمن کے استحکام سے متعلق اپنی مستقل تشویش کا اعادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یمن اپنے عوام ، سلامتی ، شناخت ، اتحاد اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیےعرب دھارے کی جانب لوٹ آئے ‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں