علی صالح کے حامیوں کی ہلاکتوں سے حوثی ملیشیا کی اصلیت طشت ازبام:انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمن کے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے لیڈروں اور وبستگان کے حالیہ قتلِ عام سے حوثیوں کی اصلیت طشت از بام عام ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعا ء میں ریاستی اداروں اور ان کے وسائل پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ ان کے فنڈز کو اینٹھ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

انھوں نے ہفتے کے روز سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’’ حوثیوں نے صنعاء میں ریاست کی آمدن کے ذرائع پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ رقم ساڑھے تین ارب ڈالرز سے پانچ ارب ڈالرز تک سالانہ بنتی ہے اور یہ رقم حوثی ملیشیا کے حامیوں اور دہشت گردوں میں تقسیم کی جارہی ہے۔

انور قرقاش نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا:’’ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن میں جنگ کے باوجود حوثیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں کاروں کی درآمد اور مکانوں کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔یقینی طور پر بیرون ملک کاریں منگوانے اور مکانوں کی تعمیر کے لیے رقوم سرکاری خزانے سے لوٹی جارہی ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں