.

پہلی مرتبہ ایران میں شیعوں کی مذہبی تربیت گاہ "حوزہ علمیّہ" نذرِ آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ایرانی حلقوں کی جانب سے ایک وڈیو کلپ زیر گردش ہے جس میں ایران کے صوبے قزوین کے شہر ترکستان میں شیعوں کی ایک مذہبی تربیت گاہ "حوزہ عِلمیّہ" کو آگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایران کی جدید تاریخ میں غالبا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مشتعل مظاہرین کی جانب سے حوزہ کو آگ لگانے کی کارروائی میں کسی قسم کا جانی نقصان بھی ہوا یا نہیں بالخصوص جب کہ ان مراکز میں غالبا طلبہ کے سونے کا انتظام بھی ہوتا ہے۔

مذکورہ وڈیو کلپ کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے کیوں کہ یہ ایران میں عدیم النظیر نوعیت کا واقعہ ہے۔

ایران میں بھڑکنے والی احتجاجی تحریک میں معاشی معاونت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تاہم جلد ہی مظاہرین کا موقف مرشد اعلی علی خامنہ ای کی اقتدار سے سبک دوشی پر زور دینے میں تبدیل ہو گیا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے احتجاجی سلسلے کے 4 روز بعد خاموشی توڑی جس کا مقصد مظاہرین کو ٹھنڈا کرنا تھا۔ تاہم اُن کے خطاب نے جس میں مظاہرین کو کریک ڈاؤن کی دھمکی دی گئی تھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کے نتیجے میں احتجاج میں پہلے سے زیادہ شدّت آ گئی اور اس کا دائرہ کار بھی وسیع ہو گیا۔

روحانی نے مظاہرین کو سخت اور فیصلہ کن اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے اقتصادی صورت حال کے بگاڑ کی ذمّے داری سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت پر عائد کی۔