امریکی سفارت خانہ 2019ء میں القدس منتقل کردیں گے: مائیک پینس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ 2019 کے آخر تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیک پینس نے ان خیالات کا اظہار اسرائیل کے دورے کے دوران صہیونی کنیسٹ [پارلیمنٹ] سے خطاب کے دوران کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دسمبر میں القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تقریر کے دوران اسرائیلی پارلیمان کے عرب ممبران نے ’یروشلم فلسطین کا دارالحکومت‘ کے بینرز کے ساتھ احتجاج کیا جس کے باعث امریکی نائب صدر کو تقریر روکنی پڑی۔

اس احتجاج کے جواب میں مائیک پینس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھی بات ہے کہ میں جمہوری نظام سے خطاب کر رہا ہوں‘۔

امریکی نائب صدر سے ملنے کے بجائے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس برسلز روانہ ہو گئے جہاں انھوں نے یورپی یونین سے استدعا کی کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔

امریکی نائب صدر نے تقریر میں کہا ’ہم فلسطینی قیادت سے استدعا کرتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر دوبارہ آئیں۔ امن صرف مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر محمود عباس نے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے پاس فلسطینی ریاست اور القدس کو فلسطینی مملکت کا صدر مقام تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا ہے۔ اس موقع پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے بھی خطاب کیا۔

صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات رکاوٹ ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کو عمل شکل دینے کی راہ ہموار ہوگی اور اسرائیل پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین عالمی قوانین کی روشنی میں قضیہ فلسطین کے عادلانہ اور منصفانہ حل کے لیے فلسطینی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے۔

ایک سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پائے تمام معاہدوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پابندی نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک فریق دو طرفہ معاہدے کی پابندی نہ کرے تو دوسرے فریق کو اس کی پابندی پرمجبور نہیں کیا جاسکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں