ایران عفرین کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے: ترکی
شام کے شہر عفرین میں ترکی کا فوجی آپریشن جاری ہے اور انقرہ اپنی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے عناصر کے خلاف جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے تگ و دو میں ہے۔
البتہ ترکی کی ان کوششوں کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مسترد کیے جانے کا سامنا ہے۔ ایرانی میڈیا نے بھی اپنی توپوں کا رخ ترکی کے آپریشن کی جانب کرتے ہوئے اسے دوسروں کے امور میں مداخلت شمار کیا ہے۔ ترکی نے اسے جھوٹا پروپیگنڈہ اور ایران کا سرکاری موقف قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے جس چیز نے ترکی کو سب سے زیادہ پریشان کیا ہے وہ ایران کے سرکاری "پریس ٹی وی" کی جانب سے عفرین کے معرکے کے بارے میں وڈیوز کا نشر کیا جانا ہے۔ ان وڈیوز میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے جو انقرہ کے بیانات سے مکمل طور مختلف ہے۔
ترکی کے نزدیک ایرانی موقف ایک طرح کی احسان فراموشی ہے۔ اس لیے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران انقرہ حکومت بھرپور انداز سے تہران کے ساتھ کھڑی تھی اور ترکی اس کے مقابل ایران کی جانب سے حمایت کی توقع کر رہا تھا۔
-
ترکی کی جارحیت کا ’مناسب‘ جواب دیں گے: ڈیموکریٹک فورس
شام میں امریکی حمایت یافتہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ نے خبردار کیا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
ترکی شام میں جاری فوجی کارروائی فوری بند کرے:امریکا
واشنگٹن کرد جنگجوؤں کی سپورٹ روکے:ایردوآن
بين الاقوامى -
عالمی تشویش کے باوجود ’عفرین‘ میں ترک فوج کا آپریشن جاری
ترکی کا عفرین میں 260 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
بين الاقوامى