.

کیا شام میں اسرائیلی کارروئیوں میں روس کی خاموش شامل ہے؟

نیتن یاھو ۔ پوتین ملاقات کے بعد شام میں اسرائیل بمباری سوالیہ نشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایک طرف روس بشارالاسد کی حمایت میں عسکری میدان میں سرگرم ہے اور دوسری طرف اسرائیلی فوج بھی وقفے وقفے سے شام میں اسد رجیم اور اس کے وفاداروں کے ٹھکانوں پربم باری جاری رکھے ہوئے ہے۔ بہ ظاہر شام میں روس اور شام کے اہداف الگ الگ ہیں مگر روسی صدر ولادی میر پوتین اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کےدرمیان تکرار کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شام میں دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ کارروائیوں میں تعاون بھی کررہے ہیں۔ نیتن یاھو۔ پوتین سرگوشیاں اور اور نتین یاھو کے بار بار روس کے دورے اس امر کے غماض ہیں کہ شام میں ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر روس کو زیادہ اعتراض نہیں۔ اسرائیلی فوج کے شام میں ہونے والے حملوں میں روس کو باقاعدہ اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کےمطابق جب سے روس نے شام میں اسد رجیم کے دفاع کے لیے اپنی فوج شام میں اتاری، تب سے اسرائیل نے شام میں اسد رجیم کی تنصیبات پر 120 فضائی حملے کیے ہیں۔

روس کا فضائی دفاعی نظام’S 400‘ بھی بتاتا ہے کہ کیسے اسرائیلی جنگی طیارے اسرائیل کے ہوائی اڈوں کے رن وے پر شام میں کارروائیوں کے لیے اڑان بھرتے ہیں۔ مگر ان جنگی طیاروں کو شام میں موجود روسی جنگی طیاروں کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ فراہم نہیں کی جاتی۔ اسرائیل کے جنگی جہاز بہ آسانی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد واپس جاتے ہیں۔ان کارروائیوں پر روس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔

نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار شام مین ایرانی عسکری وجود پر بات کی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس شام میں ایرانی وجود کا حامی ہے جب اسرائیل اس کی شدت سے مخالفت کرتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران لبنان کو اپنے اڈے کے طورپر تل بیب کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔

آٹھ جنوری کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق کے قریب ایک اسلحہ گودام پر بمباری کی۔ اس کارروائی سے محض چند روز قبل نیتن یاھو اور پوتین کے درمیان شام کے معاملے پر طویل بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں رہ نماؤں میں اعلانیہ اور سرگوشی میں ہونے والی بات چیت یہ تاثر ملتا ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں روس کی خاموش حمایت شامل ہے۔

ایسا ہی واقعہ گذشتہ برس مارچ میں پیش آیا جب آٹھ مارچ کو نیتن یاھو نے روس کا دورہ کیا۔ اس دورے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام میں اسد رجیم کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ چھ جون 2017ء کو نیتن یاھو نے روس کا ایک اور دورہ کیا اس دورکے چند روز بعد بھی شام میں اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی۔ 18 اکتوبر کو بھی نیتن یاھو اور پوتین کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت ہوئی اور اس سے اگلے روز اسرائیلی طیاروں نے شام میں بمباری کی۔

مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا نیتن یاھو اور پوتین کے درمیان ہونے والی سرگوشیوں میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ شام کی فضاؤں میں دونوں ملکوں کے جنگی طیارے ایک دوسرے کا آمنا سامنا نہیں کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں اسد رجیم کی حفاظت میں شام میں موجود روس اسرائیلی جنگی طیاروں کو شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے نہیں روگے گا۔