.

سعودی دفاعی صنعت ترقی کی راہ پر، مختصر مدت میں 6.50 کروڑ فاضل پرزہ جات کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی دفاعی صنعت نے مقامی سطح پر نمایاں پیدا وار شروع کردی ہے اوراس کی اسلحہ سازی کی صنعت نے مختصر مدت میں قریباً ساڑھے چھے کروڑ فاضل پرزہ جات تیار کر لیے ہیں۔

سعودی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف لوکل مینو فیکچرنگ اسپورٹ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل عطیہ المالکی نے بدھ کے روز العربیہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی صنعت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتایا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک ورکشاپ میں مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی آلات اور فوجی سازوسامان کے متعدد نمونے دکھائے ہیں۔ان میں سے بعض پر پچاس ہزار ریال کے لگ بھگ لاگت آئی ہے۔انھوں نے ماضی میں درآمد کیے گئے ان ہی کی قسم کے فوجی آلات سے ان کا موازنہ کیا ہے ۔ان کے بہ قول ان کی درآمد پر لاکھوں ریال لاگت آتی تھی۔

مشرقی ایوان صنعت وتجارت کی صنعتی کمیٹی کے زیر اہتمام اس ورکشاپ کے دوران میں انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ ایک چیز کی درآمد پر پہلے 33 ہزار ریال تک لاگت آتی تھی۔اب اس کو مقامی کارخانے میں صرف 127 ریال کی لاگت سے تیار کر لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بعض فاضل پرزہ جات کی ملک میں آمد میں بھی چار ،چار سال لگ جاتے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مقامی ساختہ کل فاضل پرزہ جات کی تعداد 2010ء میں 182 سے بڑھی نہیں تھی لیکن اب حکومت کی رہ نمائی اور معاونت کے نتیجے میں 2017ء میں مقامی سطح پر تیار کی گئی آئٹموں کی تعداد 5427 تک پہنچ گئی تھی اور سعودی عرب میں 12 مقامی منصوبوں کے ساتھ کم سے کم ساڑھے چھے کروڑ فوجی پارٹس تیار کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے گذشتہ سال مئی میں مملکت میں اسلحہ سازی کے لیے ایک قومی کمپنی کے قیام کا ا علان کیا تھا۔سعودی عرب کی فوجی صنعتیں ( ملٹری انڈسٹریز ) بھی مملکت کے ویژن 2030ء کا حصہ ہیں۔ان کا مقصد دفاعی صنعت کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔