شامی صدر احمد الشرع نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کے ساتھ "جلد از جلد" سفیروں کے تبادلے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سنہ 2012ء میں شامی تنازعے کے آغاز کے بعد سے فرانسیسی سفارت خانے کے دروازے بند تھے۔
دمشق میں اپنے دورے کے اختتام پر ماکروں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الشرع نے کہاکہ "مجھے آج یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے دمشق اور پیرس کے درمیان جلد از جلد سفیروں کے تبادلے کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جو سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کی علامت ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ دمشق نے فرانس سے شامی اثاثوں کی واپسی کے لیے فرانس کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "فرانس کے ساتھ مشترکہ منصوبے شام کو دوبارہ دنیا کے ساتھ جوڑ رہے ہیں"۔
"قدیم روابط"
دسری جانب سے ماکروں نے اعلان کیا کہ پیرس اور دمشق نے سفیروں کے تبادلے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "فرانس اور شام کے درمیان روابط قدیم ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "شامی عوام نے دنیا کو دکھایا ہے کہ وہ متحد اور ناقابلِ شکست ہیں" اور یہ کہ "ہم شامی عوام پر اپنے اعتماد کا اعادہ کرتے ہیں"۔
انہوں نے تصدیق کی کہ "فرانس داعش کے خلاف اتحاد میں پرعزم ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم شام کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے لیے تیار ہیں،" اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ شام مستحکم رہے"۔
"ہم نے اپنے بحری اور فضائی بیڑے کو جدید بنا لیا ہے"
اس سے قبل الشرع نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک نے خطے میں اپنا اہم کردار بحال کر لیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شام کے پاس اب "ایک مکمل نظام موجود ہے کیونکہ ہم نے اپنے بحری اور فضائی بیڑے کو جدید بنا لیا ہے"۔
دمشق کے قصر الشعب میں فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کے ساتھ منعقدہ ایک اقتصادی فورم کے دوران شامی صدر نے دونوں ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ فرانس شام کا اقتصادی شراکت دار بنے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "جس نے شام میں جلد سرمایہ کاری کی اس نے جلد منافع کمایا،" اور یہ کہ "فرانس کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اس تعلق کی ایک مثال ہے جو ہم دنیا کے ساتھ چاہتے ہیں"۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک جدید سرمایہ کاری کا ماحول تعمیر کر رہے ہیں جس کی حکمرانی ادارے کرتے ہیں۔" انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ "ہم کام کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے بینکنگ اصلاحات پر کام کر رہے ہیں"۔
انہوں نے واضح کیا کہ "شامی صنعتی شہر عالمی سرمایہ کاری کے لیے نئے پلیٹ فارمز بننے کی تیاری کر رہے ہیں،" انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کو حقیقی شراکت داری کے ذریعے تعمیر نو میں حصہ لینے کی دعوت دی۔
"کئی چیلنجز"
دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کہا کہ "شام کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہماری کمپنیوں کے لیے بھی مواقع موجود ہیں"۔
انہوں نے واضح کیا کہ "فرانس شامی بینکنگ سیکٹر کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے"۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "ہمارا مقصد شام میں نیا اعتماد پیدا کرنا اور معیشت کی بحالی میں مدد کرنا ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "فرانس شام کے لیے ایک مفید اور قابلِ پیش گوئی شراکت دار ہے اور اس نے ہمیشہ شامی عوام کے مفادات کی حمایت کی ہے۔"
دمشق میں دو دھماکے
یاد رہے کہ منگل کی صبح شامی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ دمشق میں ایک ہوٹل کے قریب دو دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر قیام پذیر تھے۔ ایلیسی محل نے بتایا کہ ماکروں نے دھماکوں کی آوازیں نہیں سنیں اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہی انہوں نے اپنے شامی ہم منصب سے ملاقات کی۔
دھماکے دمشق میں وزارت سیاحت اور نیشنل میوزیم کے درمیان ایک مصروف علاقے میں فور سیزنز ہوٹل کے قریب ہوئے، جہاں ماکروں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ دمشق میں وزارت سیاحت کے قریب ہونے والے دھماکوں میں 18 افراد زخمی ہوئے جن میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پہلا دھماکا ماکروں کے قافلے کے صدارتی محل کی جانب روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد ہوا۔ جبکہ دوسرا دھماکا موقع پر کھڑی ایک ایمبولینس کے ساتھ ہوا، جہاں تقریباً 20 افراد جمع تھے۔
موقع کے پیچھے دکانوں کے قریب شعلے اور سیاہ گھنا دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ ایمرجنسی اہلکاروں نے آگ بجھانے کا کام کیا۔
رائٹرز کی ایک ویڈیو میں ماکروں کے قافلے کو دھماکوں سے قبل صدارتی محل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد کی تصاویر میں انہیں الشرع کے ساتھ کھڑے اور دیگر شامی حکام اور فوجی افسران سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ادھر، ایک سکیورٹی ذریعے نے "الاخباریہ السوریہ" چینل کو بتایا کہ داخلی سکیورٹی فورسز دھماکوں کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے لیے تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ دھماکوں کے بعد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور سکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
"میرا دورہ جاری رہے گا"
بعد ازاں، ماکروں نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ شام کا ان کا دورہ جو پیر کے روز شروع ہوا تھا، جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید لکھاکہ "کوئی بھی چیز شامیوں کی مکمل خودمختاری اور سکیورٹی کے حامل ملک میں رہنے کی خواہش کو کمزور نہیں کر سکتی"۔
انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہاکہ "میں نے آج صبح شام میں مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقات کی اور میں نے ان میں وقار، ہمت اور عزم دیکھا ہے"۔
یاد رہے کہ سنہ 2024ء کے آخر میں سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد فرانس نے دمشق میں ایک ناظم الامور تعینات کیا تھا، تاہم اس نے اب تک اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر نہیں کھولا تھا۔