.

اسرائیل اور لبنان جنگ نہیں چاہتے: برطانیہ

امریکا مشرق وسطیٰ میں قیام امن میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے باور کرایا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں میں جنگ کا کوئی خطرہ نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ وشمالی افریقا الیسٹیر پیرٹ نے پیرس میں ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عرقتشی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے عرقتشی کو دورہ لندن کی دعوت بھی دی۔

برطانوی وزیر نے کہا کہ حالیہ دورے کے دوران وہ اسرائیل اور لبنان بھی گئے اور دونوں ملکوں کی قیادت سے ملاقات کی۔ لبنان اور اسرائیل دونوں باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ جنگ نہیں چاہتے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ’ سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر پیرٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل، لبنان کی سرحد پر باڑ کی تعمیر کرنے پر کام کر رہا ہے جس پر لبنان کو تشویش ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا کوئی امکان نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک لبنان اور اسرائیل کے درمیان گیس کے وسائل اور سرحدی دیوار پر پائے جانے والے تنازع کے حل میں مدد دینے کو تیار ہے۔

برطانوی وزیر الیسیٹر پیرٹ کا کہنا تھا ک شام میں ایران کے بڑھتے کردار اور اثر ورسوخ پر اسرائیل کو تشویش ہے۔

خطے میں ایرانی مفادات آئینی ہیں

برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ عرب خطے بالخصوص عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایرانی سرگرمیاں پڑوسی ملکوں ک لیے باعث تشویش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری بحرانوں کے حوالے سے ان کا موقف ایران کےموقف کے قریب ہے مگر ایران کے بیلسٹک میزائل تشویش کا باعث ہیں۔ ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے میں بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ شامل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں جاری تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ خطے میں بے جا مداخلت اور تخریبی کردار کے بجائے تعمیری طرز عمل اپنائے۔ اگر ایران خطے میں تعمیری انداز اختیار کرے تو اس کے مفادات کو آئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔

شام میں امن وامان کے قیام اور امن بات چیت کے حوالے سے روس کے شہر سوچی میں ہونے والی امن کانفرنس زیادہ موثر نہیں ہو سکتی جب کہ شام میں امن بات چیت جنیوا مذاکرات کا آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

حماس سے رابطوں کی تردید

مشرق وسطیٰ میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے پوچھے گئے متعدد سوالوں کے جواب میں برطانوی وزیر نے کہا کہ فلسطین۔اسرائیل تنازع کے حل کے لیے امریکا اب بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ القدس کے حوالے سے لندن کا موقف امریکی صدر کے موقف سے ہم آہنگ نہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ امریکی، اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ کوئی روابط نہیں ہیں۔ حماس پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ فی الحال حماس کے حوالے سے برطانیہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔