سعودی عرب : پبلک پراسیکیوشن میں خواتین تفتیشی افسروں کی بھرتی کا آغاز
سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے خواتین کو بطور تفتیشی افسر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان سے تفتیشی افسروں کی خالی اسامیوں کے لیے آج اتوار 11 فروری سے درخواستیں طلب کرنا شروع کردی ہیں ۔اہل امیدوار تین مارچ تک محکمے میں درخواستیں جمع کراسکتی ہیں۔
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے اہلیت کی شرائط کے بارے میں بتایا ہے کہ تمام درخواست گزار خواتین کا سعودی شہری ہونا لازمی ہے۔وہ اس عہدے کے لیے گریڈ سی تک یونیورسٹی کی متعلقہ ڈگر ی کی حامل ہوں۔انھیں رجحان ٹیسٹ اور جسمانی فٹنس کا امتحان بھی پاس کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’’ بھرتی کے عمل کے دوران میں میرٹ کی سختی سے پابندی کی جائے گی ۔ہم اس اہم اسامی کے لیے سب سے زیادہ اہل اور تعلیم یافتہ امیدواروں کو بھرتی کرنا چاہتے ہیں اور تمام تقاضوں پر پورا اترنے والی امیدواروں ہی کو حتمی انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا‘‘۔
انھوں نے بتایا کہ منتخب ہونے والی امیدواروں کو تفتیشِ جرائم ، عدالتوں میں بیانات ، فوجداری مقدمات کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی ، جیلوں کے معائنے، قیدیوں کی شکایات کی سماعت ، ان کے رہائی کے عمل کی نگرانی سمیت مختلف خصوصی فرائض انجام دینا ہوں گے۔اس کے علاوہ وہ وزیر داخلہ کو اہم رپورٹس کے بارے میں بھی آگاہ کریں گی۔
سعودی المعجب کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے خاندانوں کے درمیان مصالحت کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے۔اس کمیٹی کے سربراہ احمد الزہرانی ہیں اور اس کے ارکان میں عبداللہ الشریف اور نصر العود شامل ہیں۔ یہ کمیٹی خاندانی تنازعات سے متعلق کیسوں کو عدالتوں میں بھیجنے سے پہلے خود مصالحت کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کرے گی۔