ترکی پر شامی گاؤں پر حملے کے دوران گیس کے استعمال کا الزام
شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کی فورس اور انسانی حقوق کے نگراں گروپ "المرصد" نے بتایا ہے کہ ترک فوج نے جمعے کے روز شام کے علاقے عفرین میں حملے کے دوران مبینہ طور پر گیس کا استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔
ترکی کی فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تاہم اس سے قبل وہ عفرین میں فوجی آپریشن کے دوران شہریوں کے زخمی ہونے کے حوالے سے الزامات کی تردید کر چکی ہے۔
کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ترکی کی تازہ ترین بم باری نے شام اور ترکی کے درمیان سرحد کے نزدیک ایک گاؤں کو لپیٹ میں لیا۔ حملے بعد چھ افراد سانس گھٹ جانے کا شکار ہوئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حملے میں گیس استعمال کی گئی۔
ترکی نے گزشتہ ماہ شام کے علاقے عفرین میں زمینی اور فضائی حملے کے ساتھ فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مقصد شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنانا ہے۔
اقوام متحدہ نے چھ فروری کو شام میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
سال 2011ء میں شام کے تنازع کے آغاز کے بعد سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس اور اس کے حلیفوں نے شمالی شام میں عفرین سمیت تین علاقوں پر خود مختاری حکومت سنبھال رکھی ہے۔ بعد ازاں داعش سے آزاد کرائی جانے والی اراضی کو قبضے میں لے کر مذکورہ عناصر کے رسوخ میں مزید اضافہ ہو گیا۔
شام میں کردوں کے زیر قیادت فورسز کے لیے امریکی سپورٹ نے ترکی کو چراغ پا کر رکھا ہے جو اسے اپنی سرحدوں کے لیے ایک سکیورٹی خطرہ قرار دیتا ہے۔ ترکی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو ایک دہشت گرد تنظیم اور کردستان ورکرز پارٹی کا دھڑا شمار کرتا ہے جس نے 30 برس سے ترکی کی اراضی پر علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔
-
امریکی رقوم پر ترکی چراغ پا ، ایردوآن کا "عثمانی طمانچے"کا عندیہ
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امریکا کا شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ...
بين الاقوامى -
کُرد ملیشیا نے شامی فوج سے عفرین میں ترکی کے خلاف مدد مانگ لی
شام میں کردوں پر مشتمل عسکری گروپ ’کرد پروٹیکشن یونٹس‘ نے سرحدی علاقے ...
مشرق وسطی -
ترکی حماس کی فوجی اور معاشی امداد کررہا ہے: اسرائیل
اسرائیلی حکومت نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ فلسطین کی جماعت حماس کو فوجی مدد ...
مشرق وسطی