روہنگیا مسلمانوں کا بحران ڈرامائی طور پر مزید سنگین ہوگیا : ڈرون فوٹیج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

میانمر میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کی سفاکانہ تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں گذشتہ سال اگست سے قریباً سات لاکھ روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں جا چکے ہیں جہاں وہ اس وقت گنجان آباد مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اگست 2017ء سے پہلے ہی قریباً تین لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں واقع کیمپوں میں رہ رہے تھے اور اب ان تمام مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ان میں کی اکثریت انتہا ئی نامساعد حالات میں مختلف عالمی اداروں کی جانب سے ملنے والی امدادی خوراک پرگزارہ کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت پناہ گزینوں کے ادار ے ( یو این ایچ سی آر ) کے سائٹ پلانر فلپ ہوبنر نے ان کیمپوں کی ڈرون سے ایک فلم بنائی ہے ۔اس کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ روہنگیا کا بحران اب ڈرامائی طور پر سنگین ہوچکا ہے۔

میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان ان لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مہاجر کیمپوں سے وطن واپسی کے لیے چند ہفتے قبل ایک سمجھوتا طے پا یا تھا۔اس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی میانمار میں واپسی شروع ہونے کے بعد تمام عمل دوسال میں مکمل ہوگا۔

اس سمجھوتے کا اطلاق اکتوبر 2016ء میں میانمار کی ریاست راکھین ( اراکان) میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے حملوں کے بعد دو مراحل میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر ہوگا۔اس کا اطلاق ان روہنگیا مہاجرین پر نہیں ہوگا جو اس تاریخ سے پہلے سے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ان روہنگیا مہا جرین کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کی حکومت کو اس کی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہونے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کے لیے سخت عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش میں قائم مہاجر کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں روہنگیا مسلمانوں رہ رہے ہیں لیکن اس طرح کسمپرسی کی حالت میں رہنے کے باوجود بہت سے مہاجرین میانمار میں اپنی آبائی ریاست راکھین کی جانب لوٹنے کو تیار نہیں کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ واپسی کی صورت میں انھیں ایک مرتبہ پھر برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے مظالم اور تشدد آمیز کارروائیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ان میں سے بیشتر کے گھر بار جل چکے ہیں یا منہدم کردیے گئے تھے،بلوائیوں نے ان کی املاک لوٹ لی تھیں اور ان کے کاروبار تباہ کردیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں