.

حوثی ملیشیا نے مقتول سابق صدر علی صالح کے 200 وفادار افسروں اور فوجیوں کو اغوا کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے دارالحکومت صنعاء سے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی دو سو پولیس افسروں اور فوجیوں کو اغوا کر لیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اغوا کیے گئے افسروں اور جوانوں کو حوثی ملیشیا نے علی صالح کے قتل کے بعد نوکریوں سے نکال دیا تھا اور ان کی جگہ شمالی صوبے صعدہ سے تعلق رکھنے والے حوثی جنگجوؤں کو بھرتی کر لیا تھا۔

دریں اثناء مسلح حوثیوں نے ذمار شہر میں واقع ایک نجی اسپتال دارالشفا پر حملہ کردیا ہے۔ یہ اسپتال پاپولر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان علی شمر کا ملکیتی ہے۔ حوثیوں نے ان سے تاوان کے طور پر پچاس لاکھ سعودی ریال طلب کیے تھے اور اپنے زخمیوں کے مفت علاج کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب انھوں نے انکار کیا تو حوثی جنگجوؤں نے ان کے اسپتال پر دھاوا بول دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے مسلح گاڑیوں کے ساتھ اسپتال کی عمارت کا محاصرہ کر لیا اور علی شمر سے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ان کی اس جارحیت کا جواب دینے کے لیے شمر نے شہر کے علاقے مغرب عنس سے اپنے حامی قبائلیوں کو طلب کر لیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ان کی اپیل پر دسیوں مسلح قبائلی بھی اسپتال کے باہر پہنچ گئے اور وہ حوثیوں کو اسپتال کی عمارت سے کسی لڑائی کے بغیر باہر نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔