ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ایک نیا سروے ’’ فلسطین اسرائیل تنازع ‘‘ کے بارے میں رائے دہندگان کے رویوں میں واضح تبدیلی کو ظاہر کر رہا ہے۔ اس سروے کے مطابق اسرائیل کے لیے حمایت برسوں میں اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے درمیان فلسطینیوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے۔
نیو یارک ٹائمز اور یونیورسٹی آف سینا کے ذریعہ کرائے گئے اس سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 34 فیصد جواب دہندگان نے اسرائیل کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا۔ دسمبر 2023 میں یہ شرح 47 فیصد تھی۔ اس کے برعکس 35 فیصد نے فلسطینیوں کے لیے زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا۔ پچھلے سال کے سروے میں یہ صرف صرف 20 فیصد تھے۔ مزید 19 فیصد جواب دہندگان نے دونوں فریقوں کے ساتھ برابر ہمدردی کا اظہار کیا۔ 12 فیصد نے کہا کہ وہ نہیں جانتے یا انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
امریکی عوامی جذبات میں یہ تبدیلی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل نے 66 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو مار دیا ہے۔ غزہ کی پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کردیا ہے۔ حالیہ امریکی انتظامیہ نے جنگ کے خاتمے اور امن کی طرف بڑھنے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت بین الاقوامی امن کونسل کی تشکیل بھی شامل ہے۔ منصوبے کے مطابق ٹرمپ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک اور فنڈنگ کی اس وقت تک نگرانی کریں گے جب تک ایسے حالات پیدا نہ ہو جائیں جو فلسطینی اتھارٹی کو پٹی میں حکومت سنبھالنے کے قابل بنا دیں۔