ملک کا صدر نہ ہوتا تو ایک تخلیق کار ہوتا : ولادیمر پوتین
روسی صدر ولادیمر پوتین کا کہنا ہے کہ اگر وہ ریاست کے صدر نہ ہوتے تو اس وقت کوئی تخلیقی کام انجام دے رہے ہوتے"۔
جمعے کے روز کیلننگراڈ شہر میں روسی میڈیا کے فورم کے دوران پوتین نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں گفتگو کی۔ روسی صدر نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح پابندی کے ساتھ ورزش کرتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ جب وہ رنجیدہ ہوتے ہیں تو اس وقت کیا کرتے ہیں، روسی صدر نے بتایا کہ "میں کام کرتا ہوں"۔
معلومات اور اعداد وشمار کے بڑے ذخیرے کو ذہن نشین رکھنے کے حوالے سے پوتین کا کہنا تھا کہ "جب آپ روزانہ یہ کام کرتے ہیں تو پھر کوئی دشواری نہیں ہوتی"۔
پوتین سے پوچھا گیا کہ کوئی ایسا مرکزی واقعہ ہے جو ان کے بس میں ہوتا تو وہ اسے تبدیل کر دیتے۔ اس کے جواب میں روسی صدر نے بنا کسی لمحے کی تاخیر کے کہا "سوویت یونین کا ٹوٹ جانا"۔
واضح رہے کہ روس میں 18 مارچ کو انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ سروے رپورٹوں کے مطابق اس بات کی توقع ہے کہ پوتین بآسانی کامیاب ہو جائیں گے۔
پوتین نے فورم کے دوران بتایا کہ وہ کئی سیاسی ، ثقافتی اور عوامی شخصیات کی سرگرمیوں کے پرستار ہیں۔
روسی صدر نے بتایا کہ ان کا کوئی ایسا خواب باقی نہیں جو پورا ہونے سے رہ گیا ہو۔ پوتین کا کہنا تھا کہ "میں چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک کامیاب ، طاقت ور ، مستحکم ، متوازن اور آگے کی جانب گامزن ہو۔ روس کی اصل طاقت اس کے عوام میں ہے"۔
-
ایردوآن اور پوتن شام میں سیاسی عمل آگے بڑھانے پر متفق
شام بالخصوص ادلب میں کشیدگی کم کرنے پر بات چیت
مشرق وسطی -
’’قطری وزیر خارجہ کے دورہ ماسکو میں پوتن سے ملاقات نہیں ہو گی‘‘
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ایک ترجمان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ...
بين الاقوامى -
پوتن کا روسی شدت پسندوں کی دہشت گردوں میں شمولیت کا اعتراف
غیرملکی مداخلت نے شام میں حالات مزید خراب کیے
بين الاقوامى