.

سعودی عرب سے ہولو کاسٹ کے بارے میں بیان ’’تازہ جھونکا‘‘ ہے: یہودی ربی

اسرائیلی ، فلسطینی تنازع آج مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہ گیا،شام میں جاری لڑائی بڑا بحران ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ربیوں کی کانفرنس کے صدر ربی پنچاس گولڈ شمدات نے رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل سعودی عالم ڈاکٹر محمد العیسیٰ کے جرمن نازیوں کے ہاتھوں یہود کے قتل ِ عام کے بارے میں بیان کو سراہا ہے اور اس کو ’’تازگی‘‘ اور خطے کے ماضی کی تاریخ سے ناتا توڑنے کا مظہر قرار دیا ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ انگلش سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر العیسیٰ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں عمومی بیانیے کے برعکس مؤقف اپنایا ہے کیونکہ اسرائیل اور فلسطینی تنازع سے دونوں عوام کے دو مختلف بیانیوں نے جنم لیا تھا اور ان کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ڈاکٹر العیسیٰ کا بیان مسلم دنیا کی جانب سے یہود کی تاریخ کو سمجھنے اور اس کو قبول کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے‘‘۔

ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے جنوری میں دنیا بھر کی یہودی کمیونٹیوں کو ایک ای میل بھیجی تھی اور اس میں امریکا میں ہولو کاسٹ میموریل میوزیم کے ڈائریکٹر کو مخاطب کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ وہ ہولو کاسٹ کی الم ناکیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔انھوں نے لکھا تھا کہ ’’کوئی بھی منصفانہ ذہن کا مالک یا امن پسند شخص ہولو کاسٹ کی ہولناکیوں اور نسل کشی سے انکار نہیں کرسکتا اور نہ ان کی اہمیت کو گھٹا سکتا ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا تھا جب سعودی عرب میں وسیع البنیاد اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل کیا جارہا تھا اور نفرت پر مبنی تقریر کے خاتمے اور روا داری کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جارہے تھے ۔ان ہی دنوں میں سعودی ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان نے انتہا پسندی کو تہس نہس کرنے اور اعتدال پسند اسلام کی جانب لوٹنے کا اعلا ن کیا تھا۔

ربی پنچاس نے سعودی ولی عہد کے اس اصلاحاتی ایجنڈے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ بنیاد پرستی ( ریڈیکل ازم) کی ازسر نو تعریف میں کامیاب ہوں اور مشرقِ وسطیٰ میں دلیل ، اعتدال پسندی اور امن کو لوٹا سکیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ربیوں کے اتحاد کے منشور کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مذہبی کمیونٹیوں کو اپنے لیے خود پولیس کاری کا بندوبست کرنا چاہیے اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بین المذاہب برادریاں اس مقصد کے حصول کے لیے ماورائے سرحد کام کرسکتی ہیں۔انھوں نے انٹرویو میں مسلم جیوش لیڈر شپ کونسل کا حوالہ دیا ۔اس میں یورپ کے سرکردہ ائمہ اور ربی شامل ہیں۔اس کا مقصد مذہبی آزادی کے فروغ، اسلام فوبیا اور یہود مخالف جذبات کے خلاف مہم کو مربوط بنانا ہے۔یہ کونسل دراصل شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمہ کے زیر نگرانی قائم کی گئی تھی۔

ربی پنچاس کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیلی فلسطینی تنازع اس وقت مشرق ِ وسطیٰ کا سب سے اہم تنازع نہیں رہا ہے‘‘۔اس کا جواز وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ اس وقت شام میں روزانہ اتنے لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں جتنے غرب ِ اردن یا غزہ کی پٹی میں پورے سال میں بھی اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اسرائیلی ،فلسطینی تنازع موجود ہے اور اس کو حل ہونا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کی تعریف بہت آسان ہے۔یہ دراصل ایک شخص کے عزت ووقار اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق سے انکار ہے اور ایسا جبر واستبداد ، تشدد یا دوسرے طریقوں سے کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے انٹرویو میں یہود اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں کے علماء کو یورپی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا جانا چاہیے کیونکہ وہاں مذہبی رواداری کا موضوع نصاب میں شامل ہے اور اس کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔