.

قطری بحران کے حل کی کُنجی الریاض میں ہے: شاہِ بحرین

مجھے حیرت ہے امیرِقطر بحران کے آغاز پر الریاض کیوں نہیں گئے تھے: مصری میڈیا کے وفد سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ قطری بحران کے حل کی کنجی الریاض میں ہے۔

بحرین نیوز ایجنسی ( بی این اے ) کے مطابق انھوں نے مصری میڈیا کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے :’’انھیں اس بات پر حیرت ہے جب قطری بحران کا آغاز ہوا تھا تو امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اپنے موقف کی وضاحت کے لیے الریاض کیوں نہیں گئے تھے؟‘‘

انھوں نے کہا کہ ہماری رسم و روایت یہ ہے کہ ہمیشہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے پاس اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحرین قطر کی موجودہ صورت حال سے خوش نہیں ہے لیکن انھوں ( قطریوں ) نے خلیجی ممالک سے عدم مطابقت نہ رکھنے والی پالیسی اختیار کی اور بحرین کے داخلی امور میں مداخلت جاری رکھی تھی ۔

شاہ حمد نے کہا:’’ قطری ہمارے رشتے دار اور دوست ہیں۔وہ آل ثانی کی حکمرانی سے قبل ہمارے ہی لوگ تھے‘‘۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر قطر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا تو یہ بحران اسی طرح جاری رہے گا۔

انھوں نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بحرین اور مصر کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی اہمیت پر زوردیا ہے اور اس سے باہمی دلچسپی کے مختلف امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے خلیج عرب اور مشرق قریب امور ٹموتھی لینڈر کنگ اور امریکا کی سنٹرل کمان کے کمانڈر انچیف انتھونی زینی نے بھی منامہ میں ملاقات کی۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور مستقبل میں انھیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔