.

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا الاخوان المسلمون کے دفاع میں نیا ویڈیو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا سوشل میڈیا کے ذریعے ایک نیا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے،اس میں وہ مصر کی کالعدم دینی و سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں ۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری کا ویڈیو پیغام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سی بی ایس نیوز سے نشر ہونے والے انٹرویو کے ردعمل سے شروع ہوتا ہے۔ شہزادہ محمد نے اس انٹرویو میں الاخوان المسلمون کے نظریے کی بیخ کنی کے عزم کا اعادہ کیا تھا جو ان کے بہ قول سعودی اسکولوں کو مفتوح کر چکی ہے۔ڈاکٹر ظواہری اس ویڈیو میں الاخوان اورا س کے نظریے کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق القاعدہ کے سربراہ کی جانب سے الاخوان المسلمون کے دفاع کا اعادہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ وہ ایک عرصے سے خود کو الاخوان کے فکری اور روحانی مرشد سید قطب کا شاگرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

انھوں نے اپنی ایک کتاب میں سید قطب کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انھوں نے اللہ کی وحدانیت پر پختہ اعتقاد اور اس کے قانون کو تسلیم کرنے پر زوردیا تھا۔ان کے نزدیک اسلام اور اس کے دشمنوں کے درمیان ایک مقابلہ اور جنگ ہے۔ ان کے اس موقف اسلامی انقلاب کو جلا ملی تھی ،اسلامی ممالک میں ایک جہادی تحریک نے جنم لیا اور پھر اس کے بطن سے القاعدہ تحریک معرض وجود میں آئی تھی ۔

پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے پکڑی گئی دستاویز ات سے بھی القاعدہ اور مصر کی الاخوان المسلمون کے درمیان مضبوط روابط کا پتا چلا تھا۔امریکی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ ان دستاویزات میں سے ایک میں اسامہ بن لادن نے خصوصی طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ مصر میں حسن البنا کے ہاتھوں الاخوان المسلمون کے قیام کے بعد سے اس کی تنظیم اور نظریے سے متاثر ہوئے تھے۔

ایمن الظواہری بھی اس جانب ماضی میں جاری کردہ ایک ویڈیو میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اسامہ بن لادن الاخوان کے رکن تھے۔انھیں پاکستان میں ایک خصوصی مشن تفویض کیا گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کردی تو انھوں نے وہاں اس کی مزاحمت کے لیے اسلامی گروپ کی حمایت کی تھی۔ان کے لیے الاخوان المسلمون کی قیادت کی ہدایت یہ تھی کہ وہ افغانستان میں خود داخل نہیں ہوں گے لیکن انھوں نے اس کی حکم عدولی کی تھی۔