تہران کی جانب سے رعائتوں کے بغیر "جوہری معاہدہ" برقرار رہنا ممکن نہیں : روس
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا کی شرکت کے بغیر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مستقبل پر بات چیت ہو سکتی ہے تاہم تہران کی جانب سے رعائتوں کے بغیر اس سمجھوتے کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
منگل کے روز جاری بیان میں ریابکوف نے مزید کہا کہ جزیرہ نما کوریا کے حوالے سے جوہری بات چیت کی روشنی میں امریکا نے ایران کے بارے میں فیصلہ کرنے میں "جلدی" کی۔
یاد رہے کہ روسی صدر ولادمیر پوتین پیر کے روز ایک بار پھر باور کرا چکے ہیں کہ ماسکو ایران کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے پر کاربند رہے گا۔
ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی IAEA میں روسی مندوب میخائل اولیانوف کے مطابق صدر ولادیمر پوتین نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے امریکا کی علاحدگی سے قطع نظر روس تہران کے ساتھ طے پائے گئے جامع سمجھوتے کی شقوں پر عمل درامد کے لیے تیار ہے۔ اولیانوف نے مزید کہا کہ IAEA کے ڈائریکٹر یوکیا امانو نے بھی ان سے ملاقات میں یہ باور کرایا کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر کاربند رہنے کا سلسلہ جاری ہے۔