.

ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابات میں ’ایف بی آئی‘ کی جاسوسی کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ملک کے طاقت خفیہ ادارے ’ایف بی آئی‘ کے درمیان تناؤ میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے الزام عاید کیا کہ ’ایف بی آئی‘ نے ان کی انتخابی مہم کے دوران جاسوسی کے لیے مختلف عناصر کو ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں۔

صدر ٹرمپ اپنے دعوے کا کوئی ثبوت تو پیش نہیں کرسکے ہیں تاہم انہوں نے ’ایف بی آئی‘ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس امر کی شفاف تحقیقات کی جائیں کہ آیا ان کی انتخابی مہم کے دوران ’ایف بی آئی‘ نے نگرانی کے لیے اپنے جاسوس مقرر رکھے تھے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’میں یہاں یہ مطالبہ کر رہا ہوں اور کل باضابطہ طور پر وزارت انصاف سے درخواست کروں گا کہ وہ ’ٹرمپ‘ کی سیاسی پالیسی کی نگرانی اور انتخابی مہم میں ایف بی آئی کی مداخلت کی تحقیقات کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے خلاف مہم کی شدید مذمت کرچکے ہیں خصوصی پراسیکیوٹر روبرٹ مولر کی زیرنگرانی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا میری انتخابی مہم میں مداخلت میں سابق صدر براک اوباما کا ہاتھ تو نہیں۔

صدر ٹرمپ چند روز سے مسلسل یہ ڈھنڈروا پیٹ رہے ہیں کہ ’ایف بی آئی‘ نے محض سیاسی مقاصد کے لیے اپنے اہلکاروں کو ان کی انتخابی مہم کے دوران جاسوسی پر مقرر کر رکھا تھا۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ’ایف بی آئی‘ نے عملا اپنے ایک مخبر کو کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی ٹیم کے دو اہم ارکان کارٹر بیگ اور جارج پاپاڈوپولوس سے ملاقات کرے اور ان دونوں شخصیات کے روس کے ساتھ مبینہ روابط کی تحقیقات کرے۔