"یمن میں حوثیوں کو مدد فراہم کرنے والوں پر امریکی پابندیاں قابل تحسین ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے لئے سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے یمنی حوثیوں کو بیلسٹک میزائل فراہمی میں مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان اقدامات پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں امریکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ابتک سعودی عرب میں شہری ٹھکانوں پر یمنی علاقوں سے 140 بیلسٹک میزائل فائر کئے جا چکے ہیں جبکہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو دفاعی نوعیت کی سرگرمی قرار دیتا ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو اپنے ٹویٹ میں مخاظب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ریاض کو نشانہ بنانے کے لئے یمن میں سرگرم ملیشیا کو میزائل کی فراہمی کیونکر ایران کے دفاع میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

شہزادہ خالد نے امریکی وزارت خزانہ کے جاری کردہ پریس ریلیز بھی ٹویٹ کے ساتھ منسلک کیا ہے جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کا ہدف بننے والے پانچوں ایرانی شہری یمن کے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل سے متعلق فنی معاونت فراہم کر رہے تھے۔

حالیہ پابندیاں جنوری میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کی جانب سے پیش کی جانے والی رائے پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا فوجی ساز وسامان ایرانی ساختہ تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کے وزیر سٹیو ن منوچین کے دستخط سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ پانچ ایرانی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان کے معاونت سے حوثیوں کو سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنانے میں مدد ملی۔ان کے اقدامات نے یمن میں انسانی امداد فراہمی کی کوششوں اور علاقائی سمندروں میں جہاز رانی کی نقل وحرکت کو بھی گزند پہنچایا۔‎

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں