.

اہل سنت سے توہین آمیز سلوک کے خلاف ایرانی بلوچستان میں احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان میں ہزاروں شہریوں اور طلباء نے اہل سنت مسلک کے شہریوں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کے خلاف ہفتے کے روز احتجاجی مظاہرے کیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اہل سنت مسلک کے پیروکاروں سے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کی کال ’فریڈم یونیورسٹی‘ کے طلباء کی طرف سے دی گئی تھی۔ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں ہونے والے اس احتجاج میں بلوچ قوم سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات، طلباء طالبات اور ہزاروں عام شہریوں نے شرکت کی۔

بلوچ سماجی کارکنوں کی طرف سے ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ’یو ٹیوب‘ پر ایک فوٹیج بھی پوسٹ کی ہے جس میں ایک سرکردہ سنی عالم دین حمید صمصام کے ساتھ ریاستی عناصرکے توہین آمیز سلوک اور دیگر واقعات کو دکھایا گیا ہے۔

درایں اثناء ایران میں اہل سنت مسلک کے سرکردہ عالم دین مولوی عبدالحمید نے ایک بیان میں بلوچستان میں سنی مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے انتہا پسند گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض عناصر اہل سنت کے پیروکاروں کے ساتھ دانستہ طورپر توہین آمیز سلوک کرتے اور ایران میں مذہبی اقلیتوں کو دبانے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کودبانے کے لیے مذہبی منافرت کو دانستہ طورپر ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔