امریکا کی جانب سے محصولات پر ٹیکس ’غیر قانونی‘: جرمنی، فرانس
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتي شراکت داروں سے درآمد کیے جانے والے اسٹیل اور المونیم پر محصولات عائد کرنے کے اعلان پر یورپی ممالک نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے امریکی صدر کی طرف سے محصولات پر نیا ٹیکس لگانے کے اعلان کو مسترد کردیا ہے۔
یورپی کمشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یورپی بلاک اس کا جواب امریکا کی اپنی برآمدات پر ٹیکس لگا کر دے گا۔
میرکل اور صدر ماکروں نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے اپنے تجارتی اتحادیوں پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے کشیدگی میں اضافے کا خطرہ ہے۔
کینیڈا اور میکسیکو کے عہدے داروں نے بھی جوابی طور پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن امریکی مصنوعات کو ہدف بنایا جائے گا۔
تاہم دونوں ملکوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس انہیں بدستور ٹیکسوں کی چھوٹ فراہم کرتا رہے گا۔
یورپ، میکسیکو اور کینیڈا کو مارچ میں ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سے عارضی چھوٹ دی گئی تھی جب صدر ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ ملک میں سستے اسٹیل اور المونیم کے سيلاب کو روکنے کے لیے اس پر درآمدی ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت ہے۔
اس بیان پر یورپ کو تعجب تو نہیں ہوا لیکن مایوسی ہوئی تھی۔
یورپی یونین کے صدر جنکر نے امریکی اقدام کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کے پاس اس کے سوا کوئی اور متبادل نہیں ہے کہ وہ امریکی اشیا پر ٹیکس لگا دیں اور یہ معاملہ جنیوا میں عالمی تجارتي ادارے کے پاس لے جائیں۔
یورپی یونین اعلانیہ کہہ چکی ہے کہ اگر امریکی محصولات عائد کرتا ہے تو وہ بھی لیوائز کی تیار کردہ جینز، موٹرسائیکلوں اور وہسکی پر ٹیکس لگا دے گی۔
بڑے بڑے یورپی کاروباروں نے خبردار کیا ہے کہ حکومتیں محصولات لگانے کے مقابلے سے باز رہیں۔ اگر ایسا ہوا تو بحراقیانوس کے ملکوں میں تجارتي نظام درہم برہم ہو جائے گا۔