انقلاب کے آغاز میں خمینی کے حکم پر پھانسی کی سزائیں دی گئیں: ایرانی عالم دین
ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد چن چن کر سیاسی مخالفین اور انقلاب کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔
اسی حوالے سے ایک تازہ انکشاف ایک ایرانی اسلامی اسکالر محسن کدیور نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع کیے گئے ایک مضمون میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انقلاب کے ابتدائی عرصے میں بڑی تعداد میں مخالفین کو ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
کدیور کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی عرصے میں ایران میں سزائے موت کے نفاذ کی ذمہ داری خمینی کے مقرب مذہبی لیڈر صادق خلخالی کو سونپی گئی تھی اور وہ تنہا سزائے موت کے پروانے جاری کرتے تھے۔
علامہ کدیور نے اس وقت کے وزیر انصاف اسد اللہ مبشری کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہےجن کی موجودگی میں شاہ ایران کے دور کے وزیراعظم کے ٹرائل کا ذکر ہے۔
ایرانی اپوزیشن رہ نما جو امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ایرانی بادشاہ کے وزیراعظم کو جیل میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسے عدالت میں مقدمہ چلانے کے بعد سزا دی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ انقلاب کے آغاز میں مھدی ھادوی ایران کے پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ انہوں نے بھی سابق وزیراعظم ھوید کے ٹرائل کی تکمیل سے قبل ہی اسے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی توثیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ھویدا کے قتل کےحوالے سے 1979ء میں وضع کردہ قوانین کی پاسداری بھی نہیں کی گئی۔
-
ایران خطے میں مزاحمتی قوتوں کی پشت پناہی جاری رکھے گا: علی خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک مشرقِ اوسط ...
مشرق وسطی -
امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے ایران کے خفیہ بیلسٹک میزائلوں کا انکشاف
امریکی ڈرون طیاروں نے ایران میں بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی خفیہ تنصیبات کا انکشاف ...
بين الاقوامى -
اپنی سرزمین ایران کے خلاف جنگ میں استعمال نہیں ہونے دیں گے: قطر
دوحہ کی جانب سے تہران کی حمایت، خطے میں ایرانی مداخلت نظرانداز
مشرق وسطی