.

اقوام متحدہ کے ایلچی کو یمن پہنچنے سے قبل حوثیوں کی کڑی تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حوثیوں کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام نے کا کہنا ہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ابھی تک کچھ نہیں کیا اور عبدالسلام کے بقول وہ مسلسل جاری "جارحیت" پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ حوثی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ ایلچی (مارٹن گریوتھ) کا کردار سابق ایلچی (اسماعيل ولد الشيخ) سے مختلف نہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغی ملیشیا کی قیادت سے ملاقات کے سلسلے میں گریفتھ کا آئندہ دورہ (جو دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ان کا دوسرا دورہ ہے) حوثیوں کو اس بات پر قائل کرنے کی آخری کوشش ہے کہ وہ الحدیدہ شہر کو یمن کی آئینی حکومت کے حوالے کر دیں۔ تاہم حوثیوں کے ترجمان کے نزدیک کوئی بھی مطالبہ یا دباؤ "ناقابل بحث" ہے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ الحدیدہ شہر اور بندرگاہ کی آزادی کے لیے اتحادی افواج کی معاونت سے یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی بڑی پیش قدمی اور اپنے گرد عسکری طور پر گھیرا تنگ ہونے کے باوجود حوثی باغی کوئی پُر امن حل نہیں چاہتے۔

حوثیوں کی نام نہاد "انقلابی کونسل" کے سربراہ محمد علی الحوثی نے بھی ٹوئیٹر پر اقوام متحدہ کے ایلچی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر ناکام ہو جانے کا الزام عائد کیا۔

حوثیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی نے جمعرات کی شام ٹیلی وژن پر ایک خطاب میں اقرار کیا کہ مغربی ساحل بالخصوص الحدیدہ کے محاذ پر اُن کی صفیں ڈھیر ہو رہی ہیں۔ عبدالملک نے اپنے جنجگوؤں میں افراتفری پھیل جانے کا بھی اعتراف کیا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ الحدیدہ کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد سیاسی ، انسانی اور سکیورٹی تحفظات سے نمٹنا ہے۔ گریفتھ کے مطابق وہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔