پولینڈ نے ’ہولوکاسٹ‘ سے متعلق متنازع قانون میں ترمیم کر لی
پولینڈ کی حکومت نے دوسری عالم جنگ میں بڑے پیمانے پر یہودیوں کے قتل عام اور زندہ جلانے سے متعلق ایک متنازع قانون پر اسرائیل کی جانب سے شدید تنقید کے بعد اسے تبدیل کردیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں منظور ہونے والے قانون کی اس شق کو ختم کر دیا ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ’ہولوکاسٹ‘ کی ذمہ داری ریاست پر عاید کرنے یا اجتماعی ذمہ داری قرار دینے والوں کو کم سے کم تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پولش پارلیمنٹ میں قانون میں ترمیم کے لیے ہونے والی رائے شماری میں دائیں بازو کی اکثیریت کے حامل 388 ارکان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 25ارکان نے مخالفت کی جب کہ پانچ ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
توقع ہے کہ جلد ہی پولش ایوان بالا یعنی سینٹ بھی آئندہ بدھ کو مجوزہ ترمیم کی منظوری دے دے گی اور حتمی منظوری کے لیے اسے صدر کو بھجوا دیا جائے گا۔
پولش وزیراعظم ماتھیوش مورا ویسکی نے آئینی شق میں اچانک ترمیم کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہولوکاسٹ سے متعلق متنازع قانون کے باعث عاید ہونے والی پابندیوں نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے اور اس کے برعکس نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس قانون کی منظوری کا بنیادی مقصد پولینڈ میں موجود جرمن نازی حراستی مراکز کو پولش کے کیمپ قرار دینے سے روکنا ہے۔ تاہم اس قانون نے اسرائیل اور پولینڈ کے درمیان سخت کشیدگی پیدا کر دی تھی۔ اسرائیل میں پولینڈ میں متعین سفیر واپس بلانے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا تھا۔
-
امریکی صدر کے ایلچی کا عالمی رابطہ اسلامی کے ہولوکاسٹ سے متعلق موقف کا خیر مقدم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امن ایلچی جیسن گرین بلاٹ نے ...
بين الاقوامى -
’ہولوکاسٹ‘ سے متعلق قانون کی منظوری پراسرائیل کا پولینڈ سے احتجاج
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پولینڈ میں پیش کیے جانے والے اس بل کی مذمت ...
بين الاقوامى -
ایران ایک اور''ہولوکاسٹ'' کی تیاری کررہا ہے: نیتن یاہو
انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران میں اسرائیل مخالف کارٹونوں ...
مشرق وسطی