افغانستان : جلال آباد میں ہندوؤں اور سکھوں کے قافلے پر خود کش بم حملہ ، 19 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں ایک خود کش بمبار نے سکھوں اور ہندوؤں کے ایک گروپ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ہندواورسکھ وفد کی صورت میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے صوبہ ننگرہار کے گورنر کے کمپاؤنڈ کی جانب جارہے تھے۔

جلال آباد کے مرکزی اسپتال کے ترجمان انعام اللہ میاں خیل نے بتایا ہے کہ مرنے والے انیس افراد میں سترہ ہندو اور سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور دس زخمی افراد بھی اسی اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک زخمی سکھ نریندر سنگھ نے جلال آباد کے اسپتال سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے کو بتایا ہے کہ ان کے قافلے کو خودکش بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بتایا ہے کہ خودکش بم دھماکے کے بعد متعدد دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی تھی۔

ننگر ہار کے پولیس سربراہ جنرل غلام سنائی ستنکزئی نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ خودکش بمبار نے گورنر کے کمپاؤنڈ کی طرف جانے والے وفد کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔وہ شہر کے دورے پر آئے ہوئے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جانا چاہتے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس صوبے میں طالبان کے علاوہ داعش کے جنگجو بھی متحرک ہیں اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران میں افغان سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں آباد ہندو اور سکھ کمیونٹی کے افراد کی کل تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔گذشتہ برسوں کے دوران میں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت نقل مکانی کرکے بھارت جا چکی ہے اور انھوں نے وہاں پناہ لے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں