.

اور اب سعودی خواتین وزارتِ انصاف کے تحت نوٹری پبلک کے شعبے میں بھی فعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی خواتین نے عملی زندگی کے ایک اور میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔انھوں نے سعودی وزارتِ انصاف کے تحت محکمہ نوٹری پبلک میں کام کےلیے لائسنس حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں اور وہ اب اس پیشے میں بھی قدم جمارہی ہیں۔

پرائیوٹ نوٹری میں حال ہی میں لائسنس حاصل کرنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ’’یہ پہلا موقع ہے،خواتین اس پیشے میں داخل ہورہی ہیں ۔ہم اس نئے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے پُرجوش ہیں اور اپنی محنت اور لگن دکھانے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم اس پیشے میں پہلے پہل داخل ہورہی ہیں ۔ہمیں توقع ہے کہ بہت سے اور خواتین بھی اس پیشے میں آئیں گی۔اس میں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔وکالت کے اختیار (پاور آف اٹارنی) کا اجرا اور منسوخی اور دستاویزات کو نوٹری کرنے ایسے کاموں سے قانونی نظام کو سیکھنے اور سمجھنے میں مدد ملے گی‘‘۔

وزارت ِ انصاف کے مطابق پرائیوٹ نوٹریز وکالت نامے کے اختیار کو جاری اور منسوخ کرسکتے ہیں اور کارپوریٹ دستاویزات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ان کے دفاتر ہفتے میں سات دن صبح وشام کام کرتے ہیں اور وہ ایک مربوط ڈیجیٹل نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں اس وقت کام کرنے والے لائسنس یافتہ پرائیوٹ نوٹریوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زیادہ ہے ۔وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ نوٹری کے لائسنس جاری کرتی رہے گی جبکہ ان کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کےمعیار پر بھی کڑی نظر رکھے گی۔

سعودی عر ب میں پبلک نوٹری خدمات کا فروری 2017ء سے آغاز ہوا تھا۔ وزارت انصاف کی جانب سے شائع کردہ حالیہ اعداد وشمار کے مطابق پرائیوٹ نوٹریوں نے تب سے اب تک 30 ہزار سے زیادہ وکالتی اختیار کے اجازت نامے جاری کیے ہیں، 272 کو منسوخ کیا ہے اور قریباً تین ہزار کارپوریٹ چارٹرز کی تصدیق کی ہے۔ ان کی تصدیق شدہ دستاویزات کو تمام سرکاری محکموں اور عدلیہ کے ماتحت اداروں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔

وزارت کے مطابق ’’نوٹری خدمات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اقدام وزارتِ انصاف کے این ٹی پی 2020ء کا حصہ ہے۔اس کا مقصد افراد اور کمپنیوں کے لیے نوٹری کی کارکردگی کو موثر بنانا ہے۔اس سے عدالتی خدمات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے میں مدد ملے گی اور سعودی ویژن 2030ء کے مطابق قومی معیشت کو ترقی ملے گی‘‘۔