سعودی عرب :فیفا کے ’بی آؤٹ کیو ‘مخالف قانونی چارہ جوئی کے اعلان کا خیرمقدم
الجزیرہ اور بی اِن اسپورٹس کو سعودی عرب میں کسی صورت نشریات دکھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
سعودی عرب کی میڈیا امور کی وزارت نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن ( فیفا) کی جانب سے ایک نجی نشریاتی ادارے بی آؤٹ کیو کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ ٹی وی چینل سعودی عرب میں روس میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کو غیر قانونی طور پر نشر کررہا ہے۔
سعودی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیفا کی جانب سے اس اقدام سے مملکت کی وزارت تجارت اور سرمایہ کاری کی بی آؤٹ کیو ٹی وی اور بی اِن کی غیر قانونی نشریات کو رکوانے کے لیے ان تھک کوششوں کو تقویت ملے گی۔ سعودی عرب اپنی حدود میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ بی آؤٹ کیو کی نشریات سعودی عرب کے علاوہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا ( مینا) کے خطے کے ممالک میں بھی غیر قانونی طور پر اور سرقہ بازی کے ذریعے دکھائی جارہی ہیں۔اس کے باوجود بعض غیر ذمے دارانہ میڈیا رپورٹس میں سعودی عرب کو بی آؤٹ کیو کے سرقے سے جوڑنے کی غیر منصفانہ اور غلط کوشش کی گئی ہے۔
سعودی میڈیا وزارت یہ سمجھتی ہے کہ ایسی غلط اور بے بنیاد رپورٹس الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کے ذیلی چینل بی اِن اسپورٹس کے ایما پر پھیلائی جارہی ہیں اور اس قطری چینل نے سعودی عرب کے خلاف ایک مذموم میڈیا مہم شروع کررکھی ہے۔بی ان اسپورٹس کو سعودی عرب اور مینا کے خطے کے رکن ممالک میں میچ دکھانے کے لیے فیفا کا لائسنس اور حقوق حاصل ہیں لیکن سعودی عرب نے الجزیرہ پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اسی بنا پر سعودی عرب نے بی اِن اسپورٹس کی نشریات پر بھی پابندی عاید کر دی تھی۔
سعودی عرب نے بیان میں اپنے اس موقف کا ا عادہ کیا ہے اور فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بی اِن اسپورٹس سے لاتعلقی اختیار کرلے اور مینا کے ممالک میں کھیلوں کے مقابلے دکھانے کے لیے متبادل نشریاتی اداروں کو لائسنس جاری کرے۔اس نے واضح کیا ہے کہ مملکت میں الجزیرہ ، بی ان اسپورٹس اور ان سے وابستہ اداروں کو نشریات دکھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ سعودی مملکت میں قانون کی عمل داری ہےاور قانون کا احترام کیا جاتا ہے۔اگر فیفا کا دعویٰ بالکل درست اور اس کے حق میں اس کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو وہ سعودی مملکت کے قانون کے تحت آزاد عدالتوں سے انصاف کی توقع کرسکتی ہے۔