تیونس کے وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تیونس کے وزیراعظم یوسف الشاہد نے حکومت کی سربراہی سے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا یہ ردّ عمل صدر الباجی قائد السبسی کے اُس بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں السبسی نے ملک کو درپیش سیاسی اور اقتصادی بحران کے سبب الشاہد پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں۔

یوسف الشاہد نے منگل کے روز تیونس افریقہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں خود کو منصب پر باقی رکھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر جب کہ تیونس کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ملک میں حکومت کی تبدیلی "خطرناک" اور دور رس اثرات مرتّب کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارلیمنٹ سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تیار ہیں۔

تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے رواں ماہ کے آغاز میں ملک کے وزیراعظم یوسف الشاہد سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ملک میں سیاسی اور اقتصادی بحران جاری رہتا ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں یا پھر اپنی حکومت کے لیے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے واسطے پارلیمنٹ کا سہارا لیں۔

یوس الشاہد نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش بحران کی ذمّے داری اُن پر عائد نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ "موروثی منفی امور کے جمع ہوجانے کا نتیجہ ہے"۔

تیونس کو اس وقت سخت اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے اور اس میں اپوزیشن کی جانب سے ملک میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبات کے سبب اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں