.

آستانہ مذاکرات کا دسواں دور آج سُوچی میں شروع ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شہر سوچی میں پیر کے روز آستانہ مذاکرات کا دسواں دور شروع ہو رہا ہے۔ بات چیت میں ضامن ممالک کے وفود اور شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ مذاکرات میں اِدلِب میں سیف زون، انسانی معاملات پر روس کی توجہ میں اضافے اور شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں پناہ گزینوں کی واپسی جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔

علاوہ ازیں گرفتار افراد اور جبری طور پر لاپتہ لوگوں کا موضوع بھی آستانہ بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران شام میں جبری لاپتہ ہونا جنگی ہتھیار بن چکا ہے۔

سال 2011ء سے شام میں کم از کم 95 ہزار افراد ابھی تک جبری روپوشی کا شکار ہیں۔

انسانی حقوق کے شامی نیٹ ورک نے تصدیق کی ہے کہ ایسے 81 ہزار سے زیادہ افراد کے مندرج ہیں جن کو بشار حکومت کی فورسز نے جبری طور پر غائب کر دیا۔ ان میں 1546 بچّے اور 4837 خواتین شامل ہیں۔ مسلح تنظیموں کے ہاتھوں لاپتہ پونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار کے قریب ہے جن میں خواتین اور بچّے بھی ہیں۔ علاوہ ازیں 8 ہزار افراد کا انجام ابھی تک نامعلوم ہے جن کو داعش تنظیم نے غائب کیا۔

انسانی حقوق کے شامی نیٹ ورک کے انکشاف کے مطابق 1500 کے قریب افراد کرد ملسح گروپوں کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے۔ جہاں تک مسلح اپوزیشن کی بات ہے تو اُن کے ہاتھوں منظرعام سے غائب ہونے والے افراد کی تعداد 1800 سے تجاوز کر گئی۔ بشار حکومت کی جانب سے جبری روپوشی کی کارروائیوں میں بن کسی استثنا معاشرے کے تمام طبقوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں شہری، سیاست دان، کارکنان اور صحافی شامل ہیں۔