یونان کا ترکی کو مطلوب صحافی انقرہ کے حوالے کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یونان کی وزارت انصاف نے ترکی کی طرف سے اشتہاری قرار دیے گئے ایک صحافی تورگوت کایا کو انقرہ کےحوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق تُرک حکومت کایا پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام عاید کرتی ہے۔

تورگوت کایا کو پہلی بار اپریل 2015ء کو یونان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ مگر فروری 2017ء کو انٹرپول کی درخواست پر ایک باپھر اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

یونان کی سپریم کورٹ نے مئی میں کایا کو ترکی کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی تھی مگر اس حوالے سے حتمی فیصلہ یونانی وزارت انصاف کی جانب سے کیا جانا تھا۔

یونانی حکومت کے ذمہ دار اور مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کایا کو اپنے ہاں پناہ دینے اور اسے ترکی کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونانی وزیر انصاف زافروس کونٹوینس نے بھی کویا کی انقرہ کو حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

خیال رہے کہ انقرہ اور ایتھنز کے درمیان جولائی 2016ء کو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سےحالات تناؤ کاشکار ہیں۔ یونان نے ترکی سے فرار ہونے والے آٹھ سینیر فوجی افسران کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے جو مبینہ طورپر ترکی میں فوجی بغاوت میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ ترکی متعدد بار یونانی حکومت سے اشتہاریوں کی حوالگی کا مطالبہ کرچکا ہے مگر یونان کی حکومت اس حوالے سے مسلسل پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں