"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے حمزہ بن لادن کی اہلیہ کی حقیقی شناخت ظاہر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ القاعدہ تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے اور جاں نشیں "حمزہ بن لادن" کی اہلیہ مصری باشندے "محمد عطا" کی بیٹی ہے۔ محمد عطا 11 ستمبر کو نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں میں شریک افراد میں شامل تھا۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے برخلاف اب العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حمزہ بن لادن کی اہلیہ کی حقیقی شناخت کا انکشاف کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے برآمد ہونے والی ریکارڈنگز کے آرکائیو سے مدد لی گئی۔ اس کے علاوہ "حمزة بن لادن" کی شادی کی تقریب کے وڈیو کلپوں کا بھی باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔ 26 مئی 2005 کو ہونے والی شادی کے وقت حمزہ کی عمر 17 برس تھی۔

نکاح کی تقریب کی نگرانی محمد شوقی الاسلامبولی کے ذمّے تھی جو مصر کے سابق صدر انور سادات کے قاتل خالد الاسلامبولی کا بھائی ہے۔ وڈیو کلپوں کے مطابق تقریب میں حمزہ بن لادن، محمد الاسلامبولی، محمد الزيات عُرف ابو محمد المصری، اسامہ بن لادن کے دیگر بیٹوں (محمد، سعد اور حسن) اور اسامہ کے کئی پوتوں کے علاوہ اسامہ بن لادن کے کویتی نژاد داماد سليمان ابو الغيث سمیت القاعدہ تنظیم کے کئی اہم رہ نما شریک تھے۔

اس دوران الاسلامبولی نے نکاح پڑھایا جس سے حمزہ بن لادن کی اہلیہ کی شناخت واضح ہو گئی۔ اس کا نام مریم عبداللہ احمد ہے جو القاعدہ کے حالیہ سربراہ ایمن الظواہری کے نائب اور تنظیم کے دوسرے اہم ترین رہ نما "ابو محمد المصری" کی بیٹی ہے۔

وڈیو کلپوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایسا نظر آتا ہے کہ حمزہ بن لادن کی شادی کی تقریب دو مختلف مقامات پر انجام پائی۔ ان میں پہلا مقام ایرانی دارالحکومت تہران کی ایک مسجد ہے اور دوسرا مقام اسامہ کے اہل خانہ کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مخصوص کیا جانے والا رہائشی کمپاؤنڈ ہے۔

واضح رہے کہ الجہاد المصری تنظیم میں شرعی کمیٹی کا ذمّے دار محمد عید ابراہیم شرف عُرف ابو الفرج الیمنی ،،، حمزہ بن لادن کی اہلیہ مریم کا نانا ہے۔ متحد عرب امارات نے اگست 2002ء میں ابو الفرج الیمنی کو مصری حکام کے حوالے کیا تھا۔

ابو محمد المصری کا نام 1998ء میں براعظم افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں میں بھی لیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں 12 امریکیوں سمیت 231 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ المصری کا نام 2003ء میں ریاض دھماکوں کے حوالے سے بھی لیا جاتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق ان دھماکوں کے احکامات جنوبی ایران سے صادر ہوئے تھے جن پر افغانستان سے فرار ہو کر ایران آنے والی القاعدہ قیادت نے عمل درامد کیا۔ ان رہ نماؤں میں ابو محمد المصری کے علاوہ القاعدہ کا عسکری ذمّے داری سیف العدل بھی شامل تھا۔

اس طرح دستاویزات سے برطانوی اخبار گارڈین کی اس رپورٹ کا بے بنیاد ہونا ثابت ہوتا ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ حمزہ بن لادن کی شادی محمد عطا کی بیٹی سے ہوئی جو 11 ستمبر کے خود کش حملوں مرکزی ماسٹر مائنڈ شمار کیا جاتا ہے۔ ان حملوں کے وقت محمد عطا غیر شادی شدہ تھا چہ جائیکہ اُس کی کوئی بیٹی بھی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں