کینیڈا سفارت کاری کے سادہ اصولوں کی پاسداری میں ناکام رہا : سعودی عہدہ دار
سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے نگران اعلیٰ اور شاہ عبدالعزیز مرکز برائے قومی مکالمہ کے سیکریٹری جنرل فیصل بن عبدالعزیز بن معمر نے کہا ہے کہ کینیڈا اقوام متحدہ کے بین الاقوامی سفارت کاری سے متعلق وضع کردہ سادہ اصولوں کی پاسداری میں بھی ناکام رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کینیڈا کی وزارت برائے امور خارجہ کے ’’ فطین اذہان‘‘ سعودی عرب کے قیام کی تفصیل اور اس کے اساسی مقاصد کے بارے میں جاننے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ انھیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وطن سے محبت اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا اس کے اساسی اصول ہیں ۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’’ وہ ( کینیڈین ) اس بات سے بھی آگاہ نہیں کہ ہماری قیادت اور عوام ہمارے اتحاد کو پارہ پار ہ کرنے کی کوششوں سے کیسے نمٹتے ہیں۔وہ ایسے گم کردہ راہ اذہان سے بھی نمٹ رہے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ مذہب اور حب الوطنی کو چاقو گھونپنا ہی دراصل آزادی ہے اور وہ مغربی تہذیب کے منفی پہلوؤں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں‘‘۔
بن معمر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں عزت ،وقار ، ترقی اور جدت کے راستے پر گامزن ہے۔ ہر سعودی مرد وعورت اپنے وطن کا وفادار ہے اور یہ وفاداری اس کی حب الوطنی کی علامت ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے گذشتہ اتوار کو کینیڈا سے اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا اور الریاض میں متعیّن کینیڈا کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا تھا اور انھیں چوبیس گھنٹے میں ملک سے واپس چلے جانے کا حکم دیا تھا۔
سعودی عرب نے کینیڈا کی جانب سے ’’سول سوسائٹی کے کارکنان‘‘ کے بارے میں بیانات کے بعد اس کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تمام نئے سمجھوتوں اور معاہدوں کو منجمد کردیا ہے۔اس نے کینیڈا کے لیے تمام تعلیمی وظائف ، تربیتی اور فیلوشپ پروگراموں کو بھی معطل کردیا ہے اور اس ملک میں زیر تعلیم سعودی طلبہ کو دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔