امریکا نے پادری کی رہائی کے لیے ترکی کی مشروط پیش کش ٹھکرا دی : رپورٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ترکی میں زیر حراست پادری اینڈریو برونسن کی مشروط رہائی کے لیے انقرہ کی پیش کش مسترد کردی ہے۔ ترکی نے امریکا کو یہ پیش کش کی تھی کہ اگر وہ اس کے ایک بنک کے خلاف ایران سے تعاون کے الزام کی تحقیقات ختم کردے تو اس پادری اور دوسرے امریکی شہریوں کو رہا کیا جا سکتا ہے۔
ترکی نے امریکی حکومت کے لیے کام کرنے والے تین ترک شہریوں کو بھی گرفتار کررکھا ہے۔امریکا ترکی کے حلک بنک کے خلاف ایران کی مدد کے الزام کی تحقیقات کررہا ہے۔اس بنک نے مبینہ طور پر ایران پر عاید امریکی پابندیوں سے بچاؤ کے لیے مالی خدمات انجام دی تھیں۔اگر امریکا نے اس کو ایران کی مدد کے الزام میں قصور وار قرار دے دیا تو اس پر بھاری جرمانہ عاید کیا جاسکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک برونسن کو رہا نہیں کردیا جاتا ،اس وقت تک بنک پر عاید کیے جانے والے جرمانے اور دونوں ملکوں کے درمیان دوسرے متنازعہ امور پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
اس بے نامی عہدے دار نے کہا کہ ’’ نیٹو کے ایک اتحادی کی حیثیت سے ترکی کو پہلے نمبر پر تو پادری برونسن کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘۔
پادری کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے آنے والے ایلومینیم اور اسٹیل پر ٹیرف کو دُگنا کردیا ہے،اس کے ردعمل میں ترکی نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات میں اضافہ کردیا ہے۔
دریں اثناء ترکی کی ایک عدالت نے اینڈریو برونسن کی رہائی کے لیے دائر کردہ ایک اور اپیل کو مسترد کردیا ہے اور ترکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے خلاف مزید پابندیاں عاید کیں تو وہ بھی ان کے جواب میں اقدامات کرے گا۔
ترکی نے عیسائی پادری اینڈریو برونسن کو دہشت گردی کے الزامات میں دوسال قبل گرفتار کیا تھا۔اس کو زیر حراست رکھنے پر ترکی اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات شدید بحران کا شکار ہوچکے ہیں ۔امریکا کی ترکی کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں لیرہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اس کی ڈالر کے مقابلے میں قدرمیں حالیہ ہفتوں کے دوران میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔