.

جان مکین کی ویتنام میں اسیری کا ناقابل فراموش واقعہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کے روز 81 سال کی عمر میں انتقال کرنے والے جہاں دیدہ امریکی سیاست دان جان مکین کی زندگی کا کچھ عرصہ ویت نام میں ایک قیدی کے طورپر بھی گذرا۔ ویتنام میں اسیری ان کی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

ویتنام کی جنگ میں انہیں گرفتار کیا گیا اور وہ پانچ سال تک ایک جیل میں قید رہے۔ اس وقت وہ نیول فورس کے ’معاون ہواباز‘ تھے۔

جوانی کی عمر میں دشمن کی قید میں چلے جانا جان مکین کے لیے آزمائش تھی مگر اسیری ان کے سیاسی مشن کی راہ میں حائل نہ ہوسکی۔ انہوں نے قریبا تین عشرے امریکی سینٹ میں خدمات انجام دیں۔ دو بار صدارتی انتخابات میں حصہ لیا مگر شکست کھا گئے۔ پہلی بار ان کا مقابلہ سنہ2000ء میں جارج بش جونیر سے تھا۔ وہ بھی ری پبلیکن تھے جب کہ دوسری بار انہوں نے 2008ء میں باراک اوباما کے ساتھ مقابلہ کیا مگر ہار گئے تھے۔

عسکری میراث

جان مکین 29 اگست 1936ء کو سڈنی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی پس منظر فوج سے وابستہ تھا۔ ان کے آباؤ اجداد امریکا کی آزادی کی جنگ کے دوران جارج واشنگٹن کے جرنیلوں کے ساتھ کام کرچکے تھے۔

ان کے والد بھی ایک فوجی افسر تھے۔ سنہ 1954ء کو انہوں نے اپنے باب دادا کی میراث آگے بڑھانے کے لیے بحریہ میں شمولیت اختیار کی۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ فوج میں بھرتی ہونے کے بعد انہیں کچھ خوف بھی لاحق ہونے لگا تھا۔

امریکی ریاست میریلینڈ کے شہر اناپولس میں جنگی تربیت حاصل کی مگر انہوں نے متعدد بار ضابطہ اخلاق اور نظام سےعلم بغاوت بھی بلند کیا۔ بعد میں وہ اس پرفخر بھی کرتے تھے۔ پاسنگ آؤٹ گروپ میں شامل 899 ان کا 895 واں نمبر تھا۔

اہم واقعات

26 اکتوبر سنہ 1967 کو ان کی زندگی کا اہم ترین واقعہ تھا جب انہوں نے ویتنام جنگ میں براہ راست حصہ لیا۔ جب وہ ’ھانوے‘ پر طیارے سے بمباری کر رہے تھے تو ان کا جہاز ’A-4‘ مار گرایا گیا۔ انہوں نے ایک چھوٹے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ وہ حادثے میں زندہ بچ گئے مگر گرفتار کرلیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی ساختہ ہوائی جہاز شکن ایک میزائل نے ان کے طیارے کو ہدف بنایا۔ وہ پیرا شوٹ کی مدد سےزمین پر اترنا چاہتے تھے مگرشمالی ویتنامی اپنے شکار کے گھات میں تھے۔

جان مکین نے بمباری میں شہر کا مرکزی بجلی گھر تباہ کردیا۔ حادثے میں وہ کافی زخمی ہوگئے تھے۔

انہیں پانچ سال تک ایک جیل میں ڈالا گیا جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں ایک جنگی قیدی کے طورپر جیل میں رکھا گیا اور جنگی قید کے دوران انہیں’ھانی ھیلٹن‘ کا نام دیاگیا، ان کے بازو،ایک پنڈلی اور کندھا ٹوٹ چکے تھے۔

رہائی

سنہ 1973ء کو ویت نام جنگ کے خاتمے کے دو ماہ بعد جان مکین کو رہا کردیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔ اس وقت وہ جسمانی طور پر کافی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے تھے۔

دس سال بعد یعنی 1982ء کو ریاست اریزونا سے انہیں کانگریس کا رکن منتخب کیا گیاْ وہ دو بار وہاں سے امریکا کے سینٹر منتخب ہوئے۔

سنہ 1999ء کو انہوں نے کتاب ’والدین کی دانش‘ کےعنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب میں انہوں نے خاندان کی فوجی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ اس کے علاوہ ویتنام میں اپنی گرفتاری اور اسیری کے ایام کی تفصیلات کے ساتھ سیاسی زندگی کے تجربات بھی بیان کیے ہیں۔